بصیرت اخبار

 

تعقیبات نماز عشاء منقول از متہجد

اَللَّٰھُمَّ إنَّہُ لَیْسَ لِی عِلْمٌ بِمَوْضِعِ رِزْقِی

خداوندا ! مجھے اپنی روزی کے مقام کا علم نہیں

وَ إنَّما أَطْلُبُہُ بِخَطَراتٍ تَخْطُرُ عَلَی قَلْبِی فَأَجُولُ فِی طَلَبِہِ الْبُلْدانَ، فَأَنَا فِیَما أَنَا طالِبٌ کَالْحَیْرانِ

اور میں اسے اپنے خیال کے تحت ڈھونڈتا ہوں پس میں طلب رزق میں شہر ودیار کے چکر کاٹتا ہوں پس میں جس کی طلب میں ہوں اس میں سرگرداں ہوں

لاَ أَدْرِی أَ فِی سَھْلٍ ھُوَ أَمْ فِی جَبَلٍ، أَمْ فِی أَرْضٍ أَمْ فِی سَماءٍ، أَمْ فِی بَرٍّ أَمْ فِی بَحْرٍ

اور میں نہیں جانتا کہ آیا میرا رزق صحرا میں ہے یا پہاڑ میں زمین میں ہے یا آسمان میں، خشکی میں ہے یا تری میں

وَعَلَی یَدَیْ مَنْ، وَمِنْ قِبَلِ مَنْ، وَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ عِلْمَہُ عِنْدَکَ

کس کے ہاتھ اور کس کی طرف سے ہے اور میں جانتا ہوں کہ اسکا علم تیرے پاس ہے

وَأَسْبابَہُ بِیَدِکَ، وَأَنْتَ الَّذِی تَقْسِمُہُ بِلُطْفِکَ، وَتُسَبِّبُہُ بِرَحْمَتِکَ

اسکے اسباب تیرے قبضے میں ہیں اور تو اپنے کرم سے رزق تقسیم کرتا ہے اپنی رحمت سے اس کے اسباب فراہم کرتا ہے

اَللّٰھُمَّ فَصَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ، وَاجْعَلْ یا رَبِّ رِزْقَکَ لِی وَاسِعاً وَمَطْلَبَہُ سَھْلاً وَمَأْخَذَہُ قَرِیباً

یا خدایا محمدؐ وآل محمدؑ پر رحمت نازل فرما اور اے پروردگار! اپنا رزق میرے لیے وسیع کر دے اس کا طلب کرنا آسان بنا دے اور اسکے ملنے کی جگہ قریب کر دے

وَلاَ تُعَنِّنِی بِطَلبِ مَا لَمْ تُقَدِّرْ لِی فِیْہِ رِزْقاً فَإنَّکَ غَنِیٌّ عَنْ عَذَابِی وَأَنَا فَقِیرٌ إلَی رَحْمَتِکَ

جس چیز میں تو نے رزق نہیں رکھا مجھے اسکی طلب کے رنج میں نہ ڈال کہ تو مجھے عذاب دینے میں بے نیاز ہے میں تیری رحمت کا محتاج ہوں

فَصَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ، وَجُدْ عَلَی عَبْدِکَ بِفَضْلِکَ إنَّکَ ذُو فَضْلٍ عَظِیمٍ

پس محمدؐوآل محمدؐ پر رحمت فرما اور اس ناچیز بندے کواپنے فضل سے حصہ عطا فرما کہ تو بڑا فضل کرنے والا ہے

مولف کہتے ہیں کہ یہ طلبِ رزق کی دعاؤں میں سے ہے نیز مستحب ہے کہ نماز عشاء کی تعقیب میں سات مرتبہ سورہ قدر پڑھیں اور نماز وتر ﴿ نماز عشاء کے بعد بیٹھ کر پڑھی جانے والی دو رکعت نمازِ نافلہ ﴾ میں قرآن کی سو آیات پڑھیں اور نیز مستحب ہے کہ ان سوآیتوں کی بجائے پہلی رکعت میں سورہ واقعہ اور دوسری رکعت میں سورہ اخلاص پڑھیں

 

source :www.mafatih.net

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 17 August 21 ، 14:49
عون نقوی

بسم اللہ الرحمن الرحیم




 

         اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ وَأَتَوَجَّہُ إِلَیْکَ بِنَبِیِّکَ نَبِیِّ الرَّحْمَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَآلِہِ یَا أَبَا  الْقاسِمِ

اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں تیرے پیغمبر نبی رحمت حضرت محمد ﷺ کے وسیلے سے اے ابوالقاسم

یَا رَسُولَ اللهِ یَا إِمامَ الرَّحْمَةِ یَا سَیِّدَنا وَمَوْلاَنَا إِنَّا تَوَجَّھْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِکَ إِلَی اللهِ

اے الله کے رسول اے امام(ع) رحمت اے ہمارے سردار اور ہمارے آقا ہم آپ کی طرف متوجہ ہیں اور آپ کو بارگاہ الہی میں اپنا سفارشی اور وسیلہ بناتے ہیں

 وَقَدَّمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ حَاجاتِنا، یَا وَجِیہاً عِنْدَ اللهِ اشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللهِ ۔

 اور اپنی حاجتیں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں اے خدا کے ہاں عزت والے خدا کے حضور ہماری  سفارش کیجئے

 یَا أَبَا الْحَسَنِ،یَاأَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، یَا عَلِیُّ بْنَ أَبِی طالِبٍ، یَا حُجَّةَ اللهِ عَلی خَلْقِہِ

 اے ابوالحسن(ع) اے امیرالمومنین(ع) اے علی(ع) ابن ابی طالب(ع) اے خلق خدا پر اس کی حجت اے ہمارے سردار اور ہمارے آقا ہم آپ کی طرف

یَا سَیِّدَنا وَمَوْلانا إِنَّا تَوَجَّھْنا وَ اسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِکَ إِلَی اللهِ وَقَدَّمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ حاجاتِنا 

 متوجہ ہیں اور آپ کوبارگاہ الہی میں اپنا سفارشی اور وسیلہ بناتے ہیں اور اپنی حاجتیں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں اے خدا کے ہاں عزت والے خدا

یا وَجِیہاً عِنْدَ اللهِ اشْفَعْ لَنا  عِنْدَ اللهِ یا فاطِمَةَ الزَّھْراءِ یَا بِنْتَ مُحَمَّدٍ، یَا قُرَّةَ عَیْنِ الرَّسُولِ، 

کے حضور ہماری سفارش کیجئے اے فاطمہ الزہرا اے دختر محمد اے رسول کی آنکھوں کی ڈھنڈک اے ہماری سردار اور ہماری آقا ہم آپ کی طرف متوجہ ہیں

 یَا سَیِّدَتَنا وَمَوْلاتَنا إِنَّا تَوَجَّھْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِکِ إِلَی اللهِ وَقَدَّمْناکِ بَیْنَ یَدَیْ حاجاتِنا،

اور آپ کوبارگاہ الہی میں اپنا سفارشی اور وسیلہ بناتے ہیں اور اپنی حاجتیں آپکے سامنے پیش کرتے ہیں

 یَا وَجِیھَةً عِنْدَ اللهِ اشْفَعِی لَنا عِنْدَ اللهِ ۔

اے خدا کے ہاں عزت والی خدا کے حضور ہماری

 یَا أَبا مُحَمَّدٍ، یَا حَسَنُ بْنَ عَلِیٍّ، أَ یُّھَا الْمُجْتَبی، یَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ، یَا حُجَّةَ اللهِ عَلی خَلْقِہِ،

سفارش کیجئے اے ابومحمد(ع) اے حسن(ع) بن علی(ع) اے پسندیدہ اے فرزند رسول اے خلق خدا پر اس کی حجت

 یَا سَیِّدَنا وَمَوْلانا إِنَّا تَوَجَّھْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِکَ إِلَی اللهِ وَقَدَّمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ حاجاتِنا،

اے ہمارے سردار اور ہمارے آقا ہم آپ کی طرف متوجہ  ہیں آپ کو بارگاہ الہی میں اپنا سفارشی اور وسیلہ بناتے ہیں  اپنی حاجتیں  آپ کےسامنے پیش کرتے ہیں

 یَا وَجِیہاً عِنْدَ اللهِ اشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللهِ یَا أَبا عَبْدِاللهِ، یَا حُسَیْنُ بْنَ عَلِیٍّ، أَ یُّھَا الشَّھِیدُ،

اے خدا کے ہاں عزت والے خدا کے حضور ہماری سفارش کیجئے اے ابو عبدالله(ع) اے حسین(ع) بن علی(ع) اے شہید اے فرزند رسول

یَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ، یَا حُجَّةَ اللهِ عَلی خَلْقِہِ، یَا سَیِّدَنا وَمَوْلانا إِنَّا تَوَجَّھْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا 

 اے خلق خدا پر اس کی حجت اے ہمارے سردار اور ہمارے آقا ہم آپ کی طرف متوجہ ہیں اور آپ کوبارگاہ الہی میں اپنا سفارشی اور وسیلہ بناتے ہیں

بِکَ إِلَی اللهِ وَقَدَّمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ حاجاتِنا یَا وَجِیہاً عِنْدَ اللهِ اشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللهِ یَا أَبَا الْحَسَنِ

اور اپنی حاجتیں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں اے خدا کے ہاں عزت والے خدا کے حضور ہماری سفارش کیجئے اے ابوالحسن(ع) اے علی(ع) بن الحسین(ع)

یَا عَلِیُّ بْنَ الْحُسَیْنِ یَا زَیْنَ الْعابِدِینَ یَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ یَا حُجَّةَ اللهِ عَلی خَلْقِہِ، یَا سَیِّدَنا وَمَوْلانا 

 اے عابدوں کی زینت اے فرزند رسول اے خلق خدا پر اس کی حجت اے ہمارے سردار اور ہمارے آقا

إِنَّا تَوَجَّھْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِکَ إِلَی اللهِ وَقَدَّمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ حاجاتِنا یَا وَجِیہاً عِنْدَ اللهِ اشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللهِ

ہم آپ کی طرف متوجہ ہیں اور آپ کوبارگاہ الہی میں اپنا سفارشی اور وسیلہ بناتے ہیں اور اپنی حاجتیں آپکے سامنے پیش کرتے ہیں

یَا أَبا جَعْفَرٍ، یَا مُحَمَّدُ بْنَ عَلِیٍّ، أَ یُّھَا الْباقِرُ، یَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ یَا حُجَّةَ اللهِ

اے خدا کے ہاں عزت والے خدا کے حضور ہماری سفارش کیجئے اے ابو جعفر(ع) اے محمد(ع) ابن علی(ع) اے باقر(ع) اے فرزند رسول

عَلی خَلْقِہِ یَا سَیِّدَنا وَمَوْلانا إِنَّا تَوَجَّھْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِکَ إِلَی اللهِ وَقَدَّمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ

اے خلق خدا پر اس کی حجت اے ہمارے سردار اور ہمارے آقا ہم آپ کی طرف متوجہ ہیں اور آپ کوبارگاہ الہی میں اپنا سفارشی اور وسیلہ بناتے ہیں

حَاجَاتِنا، یَا وَجِیہاً عِنْدَ اللهِ اشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللهِ ۔ یَا أَبا عَبْدِاللهِ، یَا جَعْفَرُ بْنَ مُحَمَّدٍ ، أَ یُّھَا الصَّادِقُ،

 اور اپنی حاجتیں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں اے خدا کے ہاں عزت والے خدا کے حضور ہماری سفارش کیجئے اے جعفر(ع) ابن محمد(ع) اے صادق

یَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ، یَا حُجَّةَ اللهِ عَلی خَلْقِہِ، یَا سَیِّدَنا وَمَوْلانَا إِنَّا تَوَجَّھْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِکَ

 اے فرزند رسول اے خلق خدا پر اس کی حجت اے ہمارے سرداراور ہمارے آقا ہم آپ کی طرف متوجہ ہیں اور آپ کوبارگاہ الہی میں اپنا سفارشی اور

إِلَی اللهِ وَقَدَمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ حاجاتِنا یَا وَجِیہاً عِنْدَ اللهِ اشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللهِ یَا أَبَا الْحَسَنِ یَا مُوسَی

وسیلہ بناتے ہیں اور اپنی حاجتیں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں اے خدا کے ہاں عزت والے خدا کے حضور ہماری سفارش کیجئے  اے ابوالحسن(ع)

بْنَ جَعْفَرٍ، أَ یُّھَا الْکاظِمُ، یَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ، یَا حُجَّةَ اللهِ عَلی خَلْقِہِ، یَا سَیِّدَنا وَمَوْلانَا إِنَّا تَوَجَّھْنا 

 اے موسٰی ابن جعفر(ع) اے کاظم(ع) اے فرزند رسول اے خلق خدا پر اس کی حجت اے ہمارے سردار اور ہمارے آقا ہم آپ کی طرف متوجہ ہیں اور آپ کو

وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِکَ إِلَی اللهِ وَقَدَّمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ حَاجَاتِنا، یَا وَجِیہاً عِنْدَ اللهِ اشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللهِ

بارگاہ الہی میں اپنا سفارشی اور وسیلہ بناتے ہیں اور اپنی حاجتیں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں اے خدا کے ہاں عزت والے خدا کے حضور ہماری سفارش کیجئے

یَا أَبَا الْحَسَنِ یَا عَلِیُّ بْنَ مُوسی، أَ یُّھَا الرِّضا، یَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ، یَا حُجَّةَ اللهِ عَلی خَلْقِہِ،

اے ابوالحسن(ع) اے علی(ع) ابن موسٰی(ع) اے رضا(ع) اے فرزندرسول اے خلق خدا پر اس کی حجت اے ہمارے سردار

یَا سَیِّدَنا وَمَوْلانا إِنَّا تَوَجَّھْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِکَ إِلَی اللهِ وَقَدَّمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ حَاجَاتِنا 

 اور ہمارے آقا ہم آپ کی طرف متوجہ ہیں اور آپ کوبارگاہ الہی میں اپنا سفارشی اور وسیلہ بناتے ہیں اور اپنی حاجتیں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں

یَا وَجِیہاً عِنْدَ اللهِ اشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللهِ یَا أَبا جَعْفَرٍ یَا مُحَمَّدُ بْنَ عَلِیٍّ أَیُّھَا التَّقِیُّ الْجَوادُ یَا ابْنَ

اے خدا کے ہاں عزت والے خدا کے حضور ہماری سفارش کیجئے اے ابوجعفر(ع)اے محمد(ع) ابن علی(ع) اے تقی و جواد(ع)

رَسُولِ اللهِ یَا حُجَّةَ اللهِ عَلی خَلْقِہِ یَا سَیِّدَنا وَمَوْلانَا إِنَّا تَوَجَّھْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِکَ إِلَی

اے فرزند رسول اے خلق خدا پر اسکی حجت اے ہمارے سردار اور ہمارے آقا ہم آپ کی طرف متوجہ ہیں اور آپ کوبارگاہ الہی میں

اللهِ وَقَدَّمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ حَاجَاتِنا، یَا وَجِیہاً عِنْدَ اللهِ اشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللهِ یَا أَبَا الْحَسَنِ یَا عَلِیُّ

اپنا سفارشی اور وسیلہ بناتے ہیں اور اپنی حاجتیں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں اے خدا کے ہاں عزت والے خدا کے حضور ہماری سفارش کیجئے اے ابوالحسن(ع)

بْنَ مُحَمَّدٍ أَیُّھَا الْہادِی النَّقِیُّ یَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ یَا حُجَّةَ اللهِ عَلی خَلْقِہِ، یَا سَیِّدَنا وَمَوْلانا إِنَّا

 اے علی(ع) ابن محمد(ع) اے ہادی(ع) نقی(ع) اے فرزند رسول اے خلق خدا پر اس کی حجت اے ہمارے سردار اور ہمارے آقا ہم آپ کی طرف

تَوَجَّھْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِکَ إِلَی اللهِ وَقَدَّمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ حاجاتِنا، یَا وَجِیہاً عِنْدَ اللهِ

 متوجہ ہیں اور آپ کوبارگاہ الہی میں اپنا سفارشی اور وسیلہ بناتے ہیں اور اپنی حاجتیں آپ کے

اشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللهِ یَا أَبا مُحَمَّدٍ، یَا حَسَنُ بْنَ عَلِیٍّ أَیُّھَا الزَّکِیُّ الْعَسْکَرِیُّ، یَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ، یَا

 سامنے پیش کرتے ہیں اے خدا کے ہاں عزت والے خدا کے حضور ہماری سفارش کیجئے اے ابو محمد(ع) اے حسن(ع) بن علی اے زکی اے فرزند رسول اے خلق

حُجَّةَ اللهِ عَلی خَلْقِہِ، یَا سَیِّدَنا وَمَوْلانا إِنَّا تَوَجَّھْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِکَ إِلَی اللهِ وَقَدَّمْناکَ

خدا پر اس کی حجت اے ہمارے سردار اور ہمارے آقا ہم آپ کی طرف متوجہ ہیں اور آپ کوبارگاہ الہی میں اپنا سفارشی اور وسیلہ بناتے ہیں

بَیْنَ یَدَیْ حاجاتِنا یَا وَجِیہاً عِنْدَ اللهِ اشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللهِ یَا وَصِیَّ الْحَسَنِ وَالْخَلَفُ الْحُجَّةُ، أَیُّھَا

اور اپنی حاجتیں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں اے خدا کے ہاں عزت والے خدا کے حضور ہماری سفارش کیجئے اے وصی حسن(ع) اے خلف حجت اے

الْقائِمُ الْمُنْتَظَرُ الْمَھْدِیُّ، یَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ، یَا حُجَّةَ اللهِ عَلی خَلْقِہِ، یَا سَیِّدَنا وَمَوْلانا إِنَّا تَوَجَّھْنا

قائم منتظر مہدی(ع) اے فرزند رسول اے خلق خدا پر اس کی حجت اے ہمارے سردار و آقا ہم آپکی طرف متوجہ ہیں اور آپ کوبارگاہ الہی میں اپنا سفارشی اور

وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِکَ إِلَی اللهِ وَقَدَّمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ حاجاتِنا، یَا وَجِیہاً عِنْدَ اللهِ اشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللهِ

 وسیلہ بناتے ہیں اور اپنی حاجتیں آپکے سامنے پیش کرتے ہیں اے خدا کے ہاں عزت والے خدا کے حضور ہماری سفارش کیجئے۔

          پس اپنی حاجات طلب کرے کہ وہ انشاء الله پوری ہونگی ایک روایت میں ہے کہ اس کہ بعد یہ بھی پڑھے :

یَا سادَتِی وَمَوالِیَّ، إِنِّی تَوَجَّھْتُ بِکُمْ أَئِمَّتِی وَعُدَّتِی لِیَوْمِ فَقْرِی وَحاجَتِی إِلَی اللهِ، وَتَوَسَّلْتُ

اے میرے سردار اور میرے آقا میرے ائمہ(ع) میرے سرمایہ میں اپنے فقر اور حاجت کے دن کے لئے تمھارے

بِکُمْ إِلَی اللهِ، وَاسْتَشْفَعْتُ بِکُمْ إِلَی اللهِ، فَاشْفَعُوا لِی عِنْدَ اللهِ،وَاسْتَنْقِذُونِی مِنْ ذُ نُوبِی عِنْدَ

ذریعے اور وسیلے سے خدا کے سامنے حاضر ہوں اور خد اکے ہاں تمہیں اپنا سفارشی بناتا ہوں پس خدا کے حضور میری سفارش کیجئے اور خدا کی جانب

اللهِ،فَإِنَّکُمْ وَسِیلَتِی إِلَی اللهِ، وَبِحُبِّکُمْ وَبِقُرْبِکُمْ أَرْجُو نَجاةً مِنَ اللهِ فَکُونُوا عِنْدَ اللهِ رَجائِی

سے میرے گناہ معاف کروائیے کیونکہ تم خدا کے ہاں میراوسیلہ ہو اور تمہاری محبت اور قربت کے وسیلے سے میں خدا سے طالب نجات ہوں پس میری امید گاہ

یَا سادَتِی یَا أَوْ لِیاءَ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَیْھِمْ أَجْمَعِینَ وَلَعَنَ اللهُ أَعْداءَ اللهِ ظالِمِیھِمْ مِنَ الْاَوَّلِینَ

 بن جاؤ اے میرے سردار اے خدا کے پیارے خد اکی رحمت ہو ان تمام پر اور خدا کی لعنت ہو ان دشمنا ن خدا پر جنہوں نے ان پر ظلم ڈھائے کہ جو اولین

وَالْاَخِرِینَ آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ

اور اخرین میں سے ہیں آمین اے رب العالمین۔

 

source :www.mafatih.net

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 17 August 21 ، 13:51
عون نقوی

 

شب عاشورا اور روز عاشورا، زیارت عاشورا پڑھنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔

اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا اَباعَبْدِاللَّهِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ اللَّهِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا خِیَرَةَ اللَّهِ و َابْنَ خِیَرَتِهِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَابْنَ اَمیرِالْمُؤْمِنینَ و َابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیّینَ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِساَّءِ الْعالَمینَ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا ثارَ اللَّهِ وَ ابْنَ ثارِهِ وَ الْوِتْرَ الْمَوْتُورَ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ وَعَلَی الاَْرْواحِ الَّتی حَلَّتْ بِفِناَّئِکَ عَلَیْکُمْ مِنّی جَمیعاً سَلامُ اللَّهِ اَبَداً ما بَقیتُ وَ بَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ یا اَباعَبْدِاللَّهِ لَقَدْ عَظُمَتِ الرَّزِیَّةُ وَ جَلَّتْ وَ عَظُمَتِ الْمُصیبَةُ بِکَ عَلَیْنا وَ عَلی جَمیعِ اَهْل ِالاِسْلامِ و َجَلَّتْ وَ عَظُمَتْ مُصیبَتُکَ فِی السَّمواتِ عَلی جَمیعِ اَهْلِ السَّمواتِ فَلَعَنَ اللَّهُ اُمَّةً اَسَّسَتْ اَساسَ الظُّلْمِ وَ الْجَوْرِ عَلَیْکُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ لَعَنَ اللَّهُ اُمَّةً دَفَعَتْکُمْ عَنْ مَقامِکُمْ و َاَزالَتْکُمْ عَنْ مَراتِبِکُمُ الَّتی رَتَّبَکُمُ اللَّهُ فیها و َلَعَنَ اللَّهُ اُمَّةً قَتَلَتْکُمْ وَ لَعَنَ اللَّهُ الْمُمَهِّدینَ لَهُمْ بِالتَّمْکینِ مِنْ قِتالِکُمْ بَرِئْتُ اِلَی اللَّهِ وَ اِلَیْکُمْ مِنْهُمْ وَ مِنْ اَشْیاعِهِمْ وَ اَتْباعِهِمْ وَ اَوْلِیاَّئِهِم یا اَباعَبْدِاللَّهِ اِنّی سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ وَ حَرْبٌ لِمَنْ حارَبَکُمْ اِلی یَوْمِ الْقِیامَةِ وَ لَعَنَ اللَّهُ آلَ زِیادٍ وَ آلَ مَرْوانَ وَ لَعَنَ اللَّهُ بَنی اُمَیَّةَ قاطِبَةً وَ لَعَنَ اللَّهُ ابْنَ مَرْجانَةَ وَ لَعَنَ اللَّهُ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ وَ لَعَنَ اللَّهُ شِمْراً وَ لَعَنَ اللَّهُ اُمَّةً اَسْرَجَتْ وَ اَلْجَمَتْ وَ تَنَقَّبَتْ لِقِتالِکَ بِاَبی اَنْتَ وَ اُمّی لَقَدْ عَظُمَ مُصابی بِکَ فَاَسْئَلُ اللَّهَ الَّذی اَکْرَمَ مَقامَکَ وَ اَکْرَمَنی بِکَ اَنْ یَرْزُقَنی طَلَبَ ثارِکَ مَعَ اِمامٍ مَنْصُورٍ مِنْ اَهْلِ بَیْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ و َآلِهِ اَللّهُمَّ اجْعَلْنی عِنْدَکَ وَجیهاً بِالْحُسَیْنِ عَلَیْهِ السَّلامُ فِی الدُّنْیا وَ الاْخِرَةِ یا اَباعَبْدِاللَّهِ اِنّی اَتَقَرَّبُ اِلی اللَّهِ وَ اِلی رَسُولِهِ وَ اِلی امیرِالْمُؤْمِنینَ وَ اِلی فاطِمَةَ وَ اِلَی الْحَسَنِ وَ اِلَیْکَ بِمُوالاتِکَ وَ بِالْبَراَّئَةِ (مِمَّنْ قاتَلَکَ وَ نَصَبَ لَکَ الْحَرْبَ وَ بِالْبَرائَةِ مِمَّنْ اَسَّسَ اَساسَ الظُّلْمِ وَ الْجَوْرِعَلَیْکُمْ وَ اَبْرَءُ اِلَی اللّهِ وَ اِلی رَسُولِهِ) مِمَّنْ اَسَسَّ اَساسَ ذلِکَ وَ بَنی عَلَیْهِ بُنْیانَهُ وَ جَری فی ظُلْمِهِ وَ جَوْرِهِ عَلَیْکُمْ وَ علی اَشْیاعِکُمْ بَرِئْتُ اِلَی اللَّهِ وَ اِلَیْکُمْ مِنْهُمْ وَ اَتَقَرَّبُ اِلَی اللَّهِ ثُمَّ اِلَیْکُمْ بِمُوالاتِکُمْ وَ مُوالاةِ وَلِیِّکُمْ  وَ بِالْبَرآئَةِ مِنْ اَعْداَّئِکُمْ وَ النّاصِبینَ لَکُمُ الْحَرْبَ وَ بِالْبَرآئَةِ مِنْ اَشْیاعِهِمْ وَ اَتْباعِهِمْ اِنّی سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ وَحَرْبٌ لِمَنْ حارَبَکُمْ وَ وَلِیُّ لِمَنْ والاکُمْ وَ عَدُوُّ لِمَنْ عاداکُمْ  فَاَسْئَلُ اللَّهَ الَّذی اَکْرَمَنی بِمَعْرِفَتِکُمْ وَمَعْرِفَةِ اَوْلِیاَّئِکُمْ وَ رَزَقَنِی الْبَراَّئَةَ مِنْ اَعْداَّئِکُمْ اَنْ یَجْعَلَنی مَعَکُمْ فِی الدُّنْیا وَالاْخِرَةِ وَاَنْ یُثَبِّتَ لی عِنْدَکُمْ قَدَمَ صِدْقٍ فِی الدُّنْیا وَ الاْخِرَةِ وَ اَسْئَلُهُ اَنْ یُبَلِّغَنِی الْمَقامَ الْمَحْمُودَ لَکُمْ عِنْدَ اللَّهِ وَ اَنْ یَرْزُقَنی طَلَبَ ثاری مَعَ اِمامٍ هُدیً ظاهِرٍ ناطِقٍ (بِالْحَقِّ) مِنْکُمْ  وَ اَسْئَلُ اللَّهَ بِحَقِّکُمْ وَبِالشَّاْنِ الَّذی لَکُمْ عِنْدَهُ اَنْ یُعْطِیَنی بِمُصابی بِکُمْ اَفْضَلَ ما یُعْطی مُصاباً بِمُصیبَتِهِ مُصیبَةً ما اَعْظَمَه وَ اَعْظَمَ رَزِیَّتَها فِی الاِسْلامِ وَ فی جَمیعِ السَّمواتِ وَ الاَرْضِ اَللّهُمَّ اجْعَلْنی فی مَقامی هذا مِمَّنْ تَنالُهُ مِنْکَ صَلَواتٌ وَ رَحْمَةٌ وَ مَغْفِرَةٌ اَللّهُمَّ اجْعَلْ مَحْیایَ مَحْیا مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ مَماتی مَماتَ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ اَللّهُمَّ اِنَّ هذا یَوْمٌ تَبرَّکَتْ بِهِ بَنُو اُمَیَّةَ وَ ابْنُ آکِلَةِ الَْآکبادِ اللَّعینُ ابْنُ اللَّعینِ عَلی لِسانِکَ وَ لِسانِ نَبِیِّکَ صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ فی کُلِّ مَوْطِنٍ وَ مَوْقِفٍ وَقَفَ فیهِ نَبِیُّکَ صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ اَللّهُمَّ الْعَنْ اَباسُفْیانَ وَ مُعاوِیَةَ وَ یَزیدَ بْنَ مُعاوِیَةَ عَلَیْهِمْ مِنْکَ اللَّعْنَةُ اَبَدَ الاْبِدینَ وَ هذا یَوْمٌ فَرِحَتْ بِهِ آلُ زِیادٍ وَ آلُ مَرْوانَ بِقَتْلِهِمُ الْحُسَیْنَ صَلَواتُ اللَّهِ عَلَیْهِ اَللّهُمَّ فَضاعِفْ عَلَیْهِمُ اللَّعْنَ مِنْکَ وَ الْعَذابَ (الاْلیمَ) اَللّهُمَّ اِنّی اَتَقَرَّبُ اِلَیْکَ فی هذَا الْیَوْمِ وَ فی مَوْقِفی هذا وَ اَیّامِ حَیاتی بِالْبَراَّئَهِ مِنْهُمْ وَاللَّعْنَةِ عَلَیْهِمْ وَ بِالْمُوالاتِ لِنَبِیِّکَ وَ آلِ نَبِیِّکَ عَلَیْهِ وَ عَلَیْهِمُ اَلسَّلامُ .
پھر سو بار کہیں:
اَللّهُمَّ الْعَنْ اَوَّلَ ظالِمٍ ظَلَمَ حَقَّ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ آخِرَ تابِعٍ لَهُ عَلی ذلِکَ اَللّهُمَّ الْعَنِ الْعِصابَةَ الَّتی جاهَدَتِ الْحُسَیْنَ وَ شایَعَتْ وَ بایَعَتْ وَ تابَعَتْ عَلی قَتْلِهِ اَللّهُمَّ الْعَنْهُمْ جَمیعاً .
پھر سو بار کہیں:
اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا اَباعَبْدِاللَّهِ وَ عَلَی الاَرْواحِ الَّتی حَلَّتْ بِفِناَّئِکَ عَلَیْکَ مِنّی سَلامُ اللَّهِ (اَبَداً) ما بَقیتُ وَ بَقِیَ اللَّیْلُ وَ النَّهارُ وَ لاجَعَلَهُ اللَّهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنّی لِزِیارَتِکُمْ اَلسَّلامُ عَلَی الْحُسَیْنِ وَ عَلی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ وَ عَلی اَوْلادِ الْحُسَیْنِ وَ عَلی اَصْحابِ الْحُسَیْنِ
پھر کہیں:
اَللّهُمَّ خُصَّ اَنْتَ اَوَّلَ ظالِمٍ بِاللَّعْنِ مِنّی وَ ابْدَاءْ بِهِ اَوَّلاً ثُمَّ الثّانِیَ وَالثّالِثَ وَ الرّابِعَ اَللّهُمَّ الْعَنْ یَزیدَ خامِساً وَ الْعَنْ عُبَیْدَ اللَّهِ بْنَ زِیادٍ وَ ابْنَ مَرْجانَةَ وَ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ وَ شِمْراً وَ آلَ اَبی سُفْیانَ وَ آلَ زِیادٍ وَ آلَ مَرْوانَ اِلی یَوْمِ الْقِیمَةِ.
پھر سجدے میں جائیں اور کہیں
اَللّهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْدَ الشّاکِرینَ لَکَ عَلی مُصابِهِمْ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ عَلی عَظیمِ رَزِیَّتی اَللّهُمَّ الرْزُقْنی شَفاعَةَ الْحُسَیْنِ یَوْمَ الْوُرُودِ وَ ثَبِّتْ لی قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَکَ مَعَ الْحُسَیْنِ وَ اَصْحابِ الْحُسَیْنِ الَّذینَ بَذَلُوا مُهَجَهُمْ دُونَ الْحُسَیْنِ عَلَیْهِ السَّلامُ .


source :www.mafatih.net

۰ نظر موافقین ۱ مخالفین ۰ 17 August 21 ، 12:52
عون نقوی

 

رہبر معظم امام خامنہ ای دام ظلہ العالی:

                   

غدیر کا مسئلہ حکومت بنانے کا مسئلہ ہے کیونکہ ولایتِ حکومتی (سیاسی) میں منصب پر فائز کیا جا سکتا ہے. جبکہ معنوی مقامات قابل منصب نہیں ہیں. ولایتِ معنوی ایسی چیز نہیں ہے کہ اس پر منصوب کرنے سے ایک مقام حاصل ہو جائے. البتہ امام علی ع بلند ترین معنوی مقامات پر فائز تھے اور جامع شخصیت کے مالک تھے جس کی وجہ سے نبی اکرم ص نے امام علی ع کو (اسلامی ریاست اور امت اسلامیہ پر حاکم اور) حکومت پر منصوب کیا....  حدیث غدیر میں جس ولایت کا تذکرہ موجود ہے وہ بمعنی حکومت ہے نہ کہ بمعنی مقام معنوی، مسئلہِ غدیر مسئلہ حکومت ہے، مسئلہِ غدیر مسئلہ سیاست ہے.

حوالہ:

کتاب: نگاہی بہ نظریہ ہای انتظار، رہبر معظم، ص۱۴۔

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 17 August 21 ، 12:36
عون نقوی


امام حسینؑ کے راستے کا مطلب ہے دشمن سے نہ ڈرنا


رہبر معظم فرماتے ہیں:
آپ بھائیوں اور بہنوں اور ایران قوم کے تمام لوگوں کو یہ جاننا چاہئے کہ کربلا ہمارے لئے ہمیشہ رہنے والا نمونہ عمل ہے ۔ کربلا ہمارا مثالیہ ہے اور اس کا پیام ہے کہ دشمن کی طاقت کے سامنے انسان کے قدم متزلزل نہیں ہونے چاہئے ۔ یہ ایک آزمایا ہوا نمونہ عمل ہے ۔ صحیح ہے کہ صدر اسلام میں ، حسین بن علی علیہ السلام بہتر لوگوں کے ساتھ شہید کر دئے گئے لیکن اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ جو بھی امام حسین علیہ السلام کے راستے پر چلے یا جو بھی قیام و جد و جہد کرے اسے شہید ہو جانا چاہئے ، نہیں ۔ ملت ایران ، بحمد اللہ آج امام حسین علیہ السلام کے راستے کو آزما چکی ہے اور سر بلندی و عظمت کے ساتھ اقوام اسلام اور اقوام عالم کے درمیان موجود ہے ۔ وہ کارنامہ جو آپ لوگوں نے انقلاب کی کامیابی سے قبل انجام دیا وہ امام حسین علیہ السلام کا راستہ تھا امام حسین علیہ السلام کے راستے کا مطلب ہے دشمن سے نہ ڈرنا اور طاقتور دشمن کے سامنے ڈٹ جانا ہے ۔ جنگ کے دوران بھی ایسا ہی تھا ۔ ہماری قوم سمجھتی تھی کہ اس کے مقابلے میں مغرب و مشرق کی طاقتیں اور پورا سامراج کھڑا ہوا ہے لیکن وہ ڈری نہیں ۔ البتہ ہماری پیارے شہید ہوئے ۔ کچھ لوگوں کے اعضائے بدن کٹ گئے اور کچھ لوگوں نے برسوں جیلوں میں گزارے اور کچھ لوگ اب بھی بعثیوں کی جیل میں ہیں لیکن قوم ان قربانیوں کی بدولت عزت و عظمت کے اوج پر پہنچ گئ ۔ اسلام ہر دل عزیز ہو گیا ہے ، اسلام کا پرچم لہرا رہا ہے یہ سب کچھ مزاحمت کی برکت سے ہے۔

حوالہ:

آفیشل سائٹ رہبر معظم

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 17 August 21 ، 10:35
عون نقوی