بصیرت اخبار

تیرہ محرم تک قافلہ حسینی کوفہ میں داخل ہو چکا تھا۔ بی بی زینبؑ کوفہ میں داخل ہوئیں وہاں پر خطبہ دیا جس نے کوفہ کے در و دیوار ہلا دیے۔ بی بی نے اس خطبے میں بنی امیہ کی جنایتوں اور کوفیوں کی بے وفائی کا ذکر کیا۔ بی بی نے کوفیوں کو مخاطب ہو کر فرمایا: 

أتبکون وتنتحبون إی والله فابکوا کثیرا واضحکوا قلیلا فلقد ذهبتم بعارها وشنآنها ولن ترحضوها بغسل بعدها أبدا وأنى ترحضون قتل سلیل خاتم الأنبیاء.

’’اے کوفیو کیا تم لوگ گریہ کرتے ہو اور نالہ بلند کرتے ہو؟ خدا کی قسم بہت زیادہ گریہ کرنا اور بہت کم ہنسنا۔ تم لوگوں پر جو شرمساری کا دھبہ لگا ہے یہ کسی بھی چیز سے دھونے سے پاک نہیں ہوگا۔ تم لوگوں نے کیسے خاتم الانبیاء کے سلالہ کو قتل ہونے دیا‘‘۔ (۱)

 وہ خاتون جس نے دو دن پہلے اپنے بھائیوں بیٹوں اور دسیوں عزیزوں کی شہادت دیکھی کیسے اتنے حوصلے اور ہمت سے خطبے دے رہی ہے؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسی خاتون افسردہ و پریشان حال ہوتی جس کو ایک حرف بولنے کی بھی سکت نہیں لیکن کوفے والوں نے ایک ایسی خاتون کو دیکھا جو شیر کی طرح غرا رہی تھی ملامت و لعنت کا طوق اپنے دشمنوں کے گلے میں ڈال رہی تھی قلوب و احساسات اور جزبات کو بھڑکا رہی تھی۔ سید بن طاووسؒ کتاب ملہوف میں نقل کرتے ہیں کہ کوفہ میں فاطمہ صغری بنت امام حسینؑ نے خطبہ دیا جس میں بی بی نے اپنی پھوپھی کی طرح اپنے دادا علیؑ کے خطبے کوفیوں کو یاد دلا دیے۔ اس خطبے میں بی بی نے پر معنی الفاظ و کلمات میں کوفیوں کو ملامت کی۔ بی بی نے فرمایا: 

تَبّاً لَکُمْ یا أَهْلَ الکُوفَةِ! کَمْ تِراتٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله علیه و آله قِبَلَکُمْ، وَذُحُولِهِ لَدَیْکُمْ، ثُمَّ غَدَرْتُمْ بِأَخِیهِ عَلِیٍّ بْنِ أَبِی‌طالِبٍ علیه السلام جَدِّی، وَبَنِیهِ عِتْرَةِ النَّبِیِّ الطَّیِّبِینَ الاخْیارِ.

’’اے کوفیو! خدا تمہیں نابود کرے تم لوگوں کے اندر خدا کے رسول کے خلاف کتنا کینہ بھرا ہوا ہے کہ ان سے انتقام لینے پر تل گئے؟ اور تم وہی لوگ ہو کہ جنہوں نے رسول خدا کے بھائی علی بن ابی طالب میرے جد اور ان کی اولاد عترت پیغمبر کہ جو پاک و بہترین لوگ تھے سے پہمان شکنی کی اور بے وفائی کی‘‘۔ (۲)

اس کے بعد بی بی ام کلثومؑ نے گریہ کرتے ہوۓ کوفیوں کو مخاطب قرار دیتے ہوۓ خطبہ دیا اور فرمایا:

یا أَهْلَ الْکُوفَةِ، سُوءاً لَکُمْ! ما لَکُمْ خَذَلْتُمْ حُسَیْناً وَقَتَلْتُمُوهُ، وَانْتَهَبْتُمْ أَمْوالَهُ وَوَرِثْتُمُوهُ، وَسَبَیْتُمْ نِساءَهُ وَنَکَبْتُمُوهُ؟! فَتَبّاً لَکُمْ وَ سُحْقاً! وَیْلَکُمْ، أَتَدْرُونَ أَیَّ دَواهٍ دَهَتْکُمْ؟ وَ أَیَّ وِزْرٍ عَلى‌ ظُهُورِکُمْ حَمَلْتُمْ؟ وَ أَیَّ دِماءٍ سَفَکْتُمُوها؟ وَ أَیَّ کَریمَةٍ اهْتَضَمْتُموها؟ وَأَیَّ صِبْیَةٍ سَلَبْتُمُوها؟ وَ أَیَّ أَمْوالٍ نَهَبْتُمُوها؟ قَتَلْتُمْ خَیْرَ رِجالاتٍ بَعْدَ النَّبِیِّ، وَنُزِعَتِ الرَّحْمَةُ مِنْ قُلُوبِکُمْ، أَلا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغالِبُونَ، وَ حِزْبَ الشَّیْطانِ هُمُ الْخاسِرُونَ.

’’اے کوفیو! بدبختی اور بے چارگی تم لوگوں کو نصیب ہو کیوں تم لوگوں نے امام حسینؑ کو تنہا کیا اور اسے قتل کیا؟ ان کے اموال کو لوٹا اور اسے اپنے اختیار میں لے لیا؟ اس کے اہل حرم خواتین کو اسیر کیا اور انہیں شکنجے دیے؟ نابود ہو جاؤ اور عذاب خدا میں گرفتار۔ تم لوگوں پر افسوس کیا تمہیں پتہ ہے کہ کس ناگوار ترین حادثے کا باعث بنے ہو، کس گناہ کو انجام دیا ہے اور کس خون کو بہایا ہے؟ کتنے عزیز لوگوں پر ستم کیا ہے؟ کن بچوں کو اپنی غارتگری کا شکار بنایا ہے؟ کن اموال کو لوٹا ہے؟ تم لوگوں نے پیغمبر کے بعد اس کی امت کے بہترین لوگوں کو قتل کیا ہے۔ اور اس طرح سے بے رحمی کی کہ گویا مہربانی اور عاطفت تمہارے دلوں سے ختم ہو گئی ہوئی تھی۔ لیکن جان لو کہ خدا کی حزب ہی کامیاب ہے اور شیطان کی حزب نقصان اٹھانے والوں میں سے ہے‘‘۔ (۳)

حذیم بن شریک اسدی کہتا ہے کہ اس کے بعد امام زین العابدینؑ نے لوگوں کی طرف رخ کیا اور انہیں اشارہ کیا کہ خاموش ہو جائیں۔ لوگ خاموش ہوگئے حضرت نے کھڑے ہو کر حمد و ثناۓ الہی بجالانے کے بعد خطبہ دیا جس میں فرمایا:

أَیُّهَا النّاسُ! مَنْ عَرَفَنِی فَقَدْ عَرَفَنِی، وَ مَنْ لَمْ یَعْرِفْنِی فَأَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ الْمَذْبُوحِ بِشَطِّ الْفُراتِ مِنْ غَیْرِ ذَحْلٍ وَلا تِراتٍ، أَنَا ابْنُ مَنِ انْتُهِکَ حَرِیمُهُ وَ سُلِبَ نَعِیمُهُ وَانْتُهِبَ مالُهُ وَ سُبِیَ عِیالُهُ، أَنَا ابْنُ مَنْ قُتِلَ صَبْراً، فَکَفى‌ بِذلِکَ فَخْراً. أَیُّهَا النّاسُ! ناشَدْتُکُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّکُمْ کَتَبْتُمْ إِلى‌ أَبِی وَ خَدَعْتُمُوهُ، وَأَعْطَیْتُمُوهُ مِنْ أَنْفُسِکُمُ الْعَهْدَ وَالْمِیثاقَ وَالْبَیْعَةَ ثُمَّ قاتَلْتُمُوهُ وَخَذَلُتمُوهُ؟ فَتَبّاً لَکُمْ ما قَدَّمْتُمْ لِأَنْفُسِکُمْ وَ سَوْأةً لِرَأْیِکُمْ، بِأَیَّةِ عَیْنٍ تَنْظُرُونَ إِلى‌ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله علیه و آله یَقُولُ لَکُمْ: قَتَلْتُمْ عِتْرَتِی وَانْتَهَکْتُمْ حُرْمَتِی فَلَسْتُمْ مِنْ أُمَّتِی.

’’اے لوگو! جو مجھے جانتا ہے سو وہ جانتا ہے اور جو نہیں جانتا جان لے کہ میں علیؑ ہوں حسینؑ کا بیٹا۔ وہی حسینؑ جسے بے جرم و خطا کنار فرات ذبح کر دیا گیا۔ میں اس کا بیٹا ہوں جس کے حریم کی بے حرمتی کی گئی اور اس کے اموال کو غارت کر دیا گیا۔ جس کے خاندان کو اسارت میں لے لیا گیا میں اس کا بیٹا ہوں جسے آزار اور شکنجے دے کر شہید کیا گیا اور یہی ہمارے لیے فخر کے لیے کافی ہے۔ اے لوگو تمہیں خدا کی قسم دے کر تم سے پوچھتا ہوں کیا تم اس بات کو قبول کرتے ہو کہ یہ تم لوگ تھے کہ جنہوں نے میرے بابا کو خطوط لکھے (اور انہیں کوفہ آنے کی دعوت دی) لیکن ان کو دھوکہ دیا ان کے ساتھ تم لوگوں نے اپنی جان کا عہد کیا اور پیمان باندھا اور بیعت کی۔ لیکن ان کو تنہا کر دیا اور ان سے جنگ کی؟ خدا تمہیں اس بدترین توشہ کی وجہ سے جو تم نے اپنی اخروی زندگی کے لیے بھیجا ہے اور اس بدترین کام پر نابود کرے۔ تم لوگ کیسے رسول اللہﷺ سے آنکھیں ملاؤ گے اس وقت جب روز قیامت تم لوگوں سے وہ فرمائیں گے: تم لوگوں نے میرے خاندان والوں کو قتل کیا اور میرے حریم کی ہتک و بے احترامی کی تم لوگ میری امت میں سے نہیں ہو۔‘‘

حذیم کہتا ہے کہ یہ خطبہ سن کر کوفی بلند آواز میں رونے لگے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ہم برباد ہوگئے بدبخت ہو گئے۔ اور فریاد بلند کرنے لگے کہ اے فرزند رسول خدا ہم آپ کے فرمان کے مطیع ہیں ہمیں حکم دیجیے! امام سجادؑ نے اس حیلہ گر گروہ کی اس پیشکش کو مسترد کیا اور یہ شعر پڑھے:

لا غَرْوَ إِنْ قُتِلَ الْحُسَیْنُ وَ شَیْخُهُ‌

قَدْ کانَ خَیْراً مِنْ حُسَیْنٍ وَأَکْرَما

فَلا تَفْرَحُوا یا أَهْلَ کُوفَةَ بِالَّذِی‌

أُصیبَ حُسَیْنٌ کانَ ذلِکَ أَعْظَما

قَتیلٌ بِشَطِّ النَّهْرِ نَفْسی فِداؤُهُ‌ 

جَزاءُ الَّذِی أَرْداهُ نارُ جَهَنَّما

جب حسینؑ اور ان کے جد جو بہتر اور بزرگوار تھے قتل کر دیا گیا اے کوفیو جو حسینؑ پر مصیبت پڑی وہ بہت بڑا مصائب تھا اس پر خوش نہ ہو۔ میری جان فدا ہو اس مقتول پر جسے کنار فرات تشنہ لب شہید کیا گیا۔ لیکن جان لو جس نے ان کو شہید کیا اس کی سزا جہنم کی آگ ہے۔ (۴)

مجموعی طور پر ان خطبوں نے ان تاریخی حقایق سے پردہ اٹھایا جو دشمنان اہلبیت نے پروپیگنڈہ پھیلایا ہوا تھا اور اس کے نتیجے میں فرزند رسولﷺ کو قتل کر دیا گیا۔ ان خطبوں نے ان تمام حقایق کو فاش کیا اور شہداء کربلا کی قربانیوں کو ضائع ہونے سے بچا لیا۔ اگر یہ خطبے نہ ہوتے تو یقینا آج نہ تو عزاداری ہوتی اور نہ ہی اسلام کا نام رہ جاتا۔

ابن زیاد کو ان خطبوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ ملعون نے اسیران کربلا کی نعوذباللہ تحقیر اور ان کو ذلیل کرنے کے لیے دربار کو سجوایا اور حاضر کرنے کا حکم دیا۔ غرور اور فتح کے جشن میں مست ابن زیاد نے حکم دیا کہ سر مبارک امام حسینؑ کو لایا جاۓ۔ سر مبارک کو اس کے سامنے ایک طشت میں رکھ دیا گیا اور اس حالت میں حکم دیا گیا کہ حریم اہلبیتؑ کو لایا جاۓ۔ بی بی زینبؑ وارد ہوئیں۔

ابن زیاد ملعون نے پوچھا:

یہ خاتون کون ہے؟

جواب دیا گیا:

هذِهِ زَیْنَبُ بِنْتُ عَلِیٍ‌.

یہ زینب بنت علیؑ ہیں۔

ابن زیاد نے بکواس کرتے ہوۓ کہا خدا کا شکر ہے جس نے تم لوگوں کو رسوا کیا۔

بی بی نے جواب دیا:

انما یفتضح الفاسق، و یکذب الفاجر و ہو غیرنا۔

فقط فاسق رسوا ہونے والا ہے اور فاسد انسان جھوٹ بولتا ہے جو کہ ہم نہیں ہیں اور وہ جھوٹا کوئی اور ہے۔ 

ابن زیاد نے کہا:

کیف رأیت صنع اللہ بأخیک و اہل بیتک؟

خدا کے کام کو اپنے بھائی اور اس کے خاندان کے حوالے سے کیسے دیکھا؟

بی بی نے جواب دیا:

ما رَأَیْتُ إِلّا جَمیلًا،

سواۓ زیبائی اور حسن و جمال کے کچھ نہیں دیکھا۔

ابن زیاد بی بی کے جواب سن کر تلملا اٹھا اور قتل کا حکم دیا۔ عمرو بن حریث نے کہا کہ اے امیر وہ ایک خاتون ہے ایک خاتون کو ہم اس طرح سے نہیں قتل کر سکتے۔

ابن زیاد نے کہا:

خدا نے حسین اور اس کے خاندان کو قتل کر کے میرے دل کو تشفی دی۔ (۵)
اس کے بعد امام سجادؑ اور ابن زیاد کا مکالمہ پیش آیا۔ ابن زیاد جس نے سوچا ہوا تھا کہ ایسی حالت میں کہ جس کا باپ، بھائی اور عزیز شہید ہو گئے ہیں بہت شدید حالت میں ہوگا اور حتی بول بھی نہیں سکے گا ایسے میں ان کی تحقیر کرے گا حیدر کرار کے پوتے کے جوابات اور ان کا رد عمل دیکھ کر تلملا اٹھا۔ اور حکم دیا کہ امام کو قتل کر دیا جاۓ لیکن بی بی زینبؑ شجاعانہ طور پر امامؑ کے دفاع میں کھڑی ہوئیں جس پر ابن زیاد امام کو قتل کرنے سے رک گیا۔ (۶)

اس ماجرا کے بعد ابن زیاد نے اپںی بوکھلاہٹ کو چھپانے کے لیے اسیران اہلبیتؑ کو زندان میں بھیج دیا اور حکم دیا کہ سر مبارک امام حسینؑ کو کوفہ کے گلی کوچوں میں گھمایا جاۓ۔ (۷)

شیخ مفیدؒ کتاب الارشاد میں نقل کرتے ہیں کہ سر امام حسینؑ نیزے پر سوار کوفہ کے گلی کوچوں میں اس آیت مجیدہ کی تلاوت کر رہا تھا: أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْکَهْفِ وَالرَّقِیمِ کَانُوا مِنْ آیَاتِنَا عَجَباً. (۸)

حوالہ جات:

۱۔ علامہ مجلسی، بحارالانوار، ج۴۵، ص۱۰۹۔

۲۔ سید بن طاووس، الملہوف علی قتلی الطفوف، ج۱، ص۱۹۶۔

۳۔ سید بن طاووس، الملہوف علی قتلی الطفوف، ج۱، ص۱۹۸۔

۴۔ طبرسی، ابو منصور، الاحتجاج، ج۲، ص۳۰۶۔

۵۔ سید بن طاووس، الملہوف علی قتلی الطفوف، ج۱، ص۲۰۱۔

۶۔ سید بن طاووس، الملہوف علی قتلی الطفوف، ج۱، ص۲۰۲۔

۷۔ سید بن طاووس، اللہوف علی قتلی الطفوف، ج۱، ص۱۶۳۔

۸۔ شیخ مفید، الارشاد، ج۲، ص۱۱۷۔
تحریر: عون نقوی

 

11 محرم کو کیا ہوا؟ پڑھنے کے لیے کلک کریں۔۔۔۔۔۔۔

12 محرم کو کیا ہو؟ پڑھنے کے لیے کلک  کریں۔۔۔۔۔۔۔

۰ نظر موافقین ۱ مخالفین ۰ 22 August 21 ، 00:11
عون نقوی

امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ:

جب کہاجاتاہے کہ جو ولایت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ اور آئمہ طاہرین علیہم السلام کو حاصل تھى وہ ولایت زمانہ غیبت میں ایک عادل فقیہ کو بھى حاصل ہے تو اس سے کسى کو بھى یہ گمان پیدا نہیں ہونا چاہئے کہ جو مقام و مرتبہ اور فضیلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ اور آئمہ اطہار علیہم السلام کو حاصل تھا وہى رتبہ فقیہ کو بھى حاصل ہے !! (نہیں، ایسا ہر گز نہیں ہے) کیونکہ یہاں بات مقام و مرتبہ کى نہیں ہو رہى بلکہ بات وظیفہ کى ہورہى ہے۔ ولایت (اس سے مراد آئمہ علیہم السلام کے مقام و مرتبہ والی ولایت نہیں ہے بلکہ یہاں ولایت) یعنى حکومت، ایک مملکت کی مدیریت اور شریعت مقدس کے قوانین کو جاری کر ہے۔ پس یہ سب ایک فقیہ کا اسی طرح وظیفہ ہے جس طرح سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ  اور آئمہ طاہرین علیہم السلام کا وظیفہ ہے۔ 

حوالہ:
حکومت اسلامى و ولایت فقیہ در اندیشہ امام خمینى ؒ، ص:۱۲۴۔

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 21 August 21 ، 13:48
عون نقوی

امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ:

انبیاء علیہ السلام کا ہدف و ذمہ دارى فقط فقہى احکام بیان کرنا نہیں ، ایسی بات نہیں کہ مسائل اور فقہى احکام وحى کے ذریعے  رسول اکرم ؐ پرنازل ہوۓ ہیں انہوں نے اور آئمہ اطہارؑ نے ان مسائل کو بیان کرنا ہے۔ یعنى خداوند متعال نے ان کو بس اس لئے مبعوث کیا ہے کہ مسائل و فقہى احکام کو بغیر کسى سستى کے عوام تک پہنچا دیں۔ اور اہل بیت ؑ نے اس ذمہ دارى کو علماءکرام کے سپرد کر دیا کہ وہ بھى اس امانت کو عوام الناس تک بغیر کسى خیانت کے پہنچائیں۔ ’’الفقھاء امنا الرسل‘‘ کا مطلب فقط یہ نہیں کہ فقہاء کرام و علماء کرام مسائل و احکام پہنچانے میں انبیاء کے امین ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ علماء و فقہاء کرام اساسى ترین وظیفہ پیامبران یعنى ایک ایسا اجتماعى نظام جو عدل کى بنیادوں پر قائم ہے اس کو معاشروں میں برقرار کرنے میں امین ہیں۔ اسى مطلب کى طرف قرآن کریم میں بھى اشارہ موجود ہے ۔ 

لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیزَانَ لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ
(الحدید: ۲۵)
ترجمہ:
بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل دے کر بھیجا ہے اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کیا ہے تاکہ لوگ عدل قائم کریں۔

 

حوالہ:
 حکومت اسلامى و ولایت فقیہ در اندیشہ امام خمینىؒ ، ص:۸۷۔

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 21 August 21 ، 13:41
عون نقوی

امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ:

ہر نظام سیاسى جو غیر اسلامى ہوگا وہ ہمیشہ شرک آمیز ہوگا اور اس کا حاکم طاغوت ہوگا اس لئے ہمارا فریضہ ہے کہ مسلمانوں کے معاشروں سے شرک کى نجاست کو دور کریں۔

حوالہ:
حکومت اسلامى، جزء اول، ص: ۲۴

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 21 August 21 ، 13:31
عون نقوی

امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ:

آپ حضرات نوجوان ہیں اور ان شاء اللہ مستقبل میں اسلام کے لئے مفید ثابت ہوں گے جو مختصر مطالب آپ کے سامنے بیان کررہاہوں ، ان کو اپنى پورى زندگى کا وظیفہ بنائیے اور قوانین اسلام کو پہنچوانے میں باقاعدہ کوشش فرمائیے آپ جو طریقہ مناسب سمجھیں تحریراً، تقریراً، لوگوں کو بتائیے کہ اسلام اپنے دور سے ہى کتنى مشکلات سے گزرتا رہا ہے اور آج بھى اس کے کتنے دشمن ہیں اور اس کے لئے کتنى مصیبتیں ہیں ۔ ایسا نہ ہو کہ حقیقت ماہیت اسلام مخفى رہ جاۓ اور لوگ یہ سوچنے لگیں کہ عیسائیت کى طرح اسلام بھى حق و خلق کے درمیان رابطہ کے لئے صرف چند انگلیوں پر گننے والا دستور رکھتاہے اور مسجد کلیسا میں کوئى فرق نہیں ہے ۔

حوالہ:

 حکومت اسلامى، جزء اول، ص: ۵ 

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 21 August 21 ، 13:27
عون نقوی