بصیرت اخبار

۲۶۶ مطلب با کلمه‌ی کلیدی «عون نقوی» ثبت شده است

کُلُّ شَیْءٍ خَاشِعٌ لَّهٗ، وَکُلُّ شَیْءٍ قَآئِمٌۢ بِهٖ: غِنٰی کُلِّ فَقِیْرٍ، وَ عِزُّ کُلِّ ذَلِیْلٍ، وَ قُوَّةُ کُلِّ ضَعِیْفٍ، وَ مَفْزَعُ کُلِّ مَلْهُوْفٍ، مَنْ تَکَلَّمَ سَمِـعَ نُطْقَهٗ، وَ مَنْ سَکَتَ عَلِمَ سِرَّهٗ، وَ مَنْ عَاشَ فَعَلَیْهِ رِزْقُهٗ، وَ مَنْ مَّاتَ فَاِلَیْهِ مُنْقَلَبُهٗ. لَمْ تَرَکَ الْعُیُوْنُ فَتُخْبِرَ عَنْکَ، بَلْ کُنْتَ قَبْلَ الْوَاصِفِیْنَ مِنْ خَلْقِکَ.

ہر چیز اس کے سامنے عاجز و سرنگوں اور ہر شے اس کے سہارے وابستہ ہے۔ وہ ہر فقیر کا سرمایہ، ہر ذلیل کی آبرو، ہر کمزور کی توانائی اور ہر مظلوم کی پناہ گاہ ہے۔ جو کہے اس کی بات بھی وہ سنتا ہے اور جو چپ رہے اس کے بھید سے بھی وہ آگاہ ہے۔ جو زندہ ہے اس کے رزق کا ذمہ اس پر ہے اور جو مر جائے اس کا پلٹنا اسی کی طرف ہے۔ (اے اللہ!) آنکھوں نے تجھے دیکھا نہیں کہ تیری خبر دے سکیں، بلکہ تو تو اس وصف کرنے والی مخلوق سے پہلے موجود تھا۔

لَمْ تَخْلُقِ الْخَلْقَ لِوَحْشَةٍ، وَ لَا اسْتَعْمَلْتَهُمْ لِمَنْفَعَةٍ، وَ لَا یَسْبِقُکَ مَنْ طَلَبْتَ، وَ لَا یُفْلِتُکَ مَنْ اَخَذْتَ، وَ لَا یَنْقُصُ سُلْطَانَکَ مَنْ عَصَاکَ، وَ لَا یَزِیْدُ فِیْ مُلْکِکَ مَنْ اَطَاعَکَ، وَ لَایَرُدُّ اَمْرَکَ مَنْ سَخِطَ قَضَآءَکَ، وَ لَایَسْتَغْنِیْ عَنْکَ مَنْ تَوَلّٰی عَنْ اَمْرِکَ، کُلُّ سِرٍّ عِنْدَکَ عَلَانِیَةٌ، وَ کُلُّ غَیْبٍ عِنْدَکَ شَهَادَةٌ.

تو نے (تنہائی کی) وحشتوں سے اکتا کر مخلوق کو پیدا نہیں کیا اور نہ اپنے کسی فائدے کے پیش نظر ان سے اعمال کرائے۔ جسے تو گرفت میں لانا چاہے وہ تجھ سے آگے بڑھ کر جا نہیں سکتا اور جسے تو نے گرفت میں لے لیا پھر وہ نکل نہیں سکتا۔ جو تیری مخالفت کرتا ہے ایسا نہیں کہ وہ تیری فرمانروائی کو نقصان پہنچائے اور جو تیری اطاعت کرتا ہے وہ تیرے ملک (کی وسعتوں) کو بڑھا نہیں دیتا اور جو تیری قضا و قدر پر بگڑ اُٹھے وہ تیرے امر کو رد نہیں کر سکتا اور جو تیرے حکم سے منہ موڑ لے وہ تجھ سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ ہر چھپی ہوئی چیز تیرے لئے ظاہر اور ہر غیب تیرے سامنے بے نقاب ہے۔

اَنْتَ الْاَبَدُ فَلَاۤ اَمَدَ لَکَ، وَ اَنْتَ الْمُنْتَهٰی فَلَا مَحِیْصَ عَنْکَ، وَ اَنْتَ الْمَوْعِدُ فَلَا مَنْجٰی مِنْکَ اِلَّاۤ اِلَیْکَ، بِیَدِکَ نَاصِیَةُ کُلِّ دَآبَّةٍ، وَ اِلَیْکَ مَصِیْرُ کُلِّ نَسَمَةٍ.

تو ابدی ہے جس کی کوئی حد نہیں اور تو ہی (سب کی) منزل منتہا ہے کہ جس سے کوئی گریز کی راہ نہیں اور تو ہی وعدہ گاہ ہے کہ تجھ سے چھٹکارا پانے کی کوئی جگہ نہیں مگر تیری ہی ذات۔ ہر راہ چلنے والا تیرے قبضہ میں ہے اور ہر ذی روح کی بازگشت تیری طرف ہے۔

سُبْحَانَکَ مَاۤ اَعْظَمَ مَا نَرٰی مِنْ خَلْقِکَ! وَ مَاۤ اَصْغَرَ عِظَمَہٗ فِیْ جَنْۢبِ قُدْرَتِکَ! وَ مَاۤ اَهْوَلَ مَا نَرٰی مِنْ مَّلَکُوْْتِکَ! وَ مَاۤ اَحْقَرَ ذٰلِکَ فِیْمَا غَابَ عَنَّا مِنْ سُلْطَانِکَ! وَ مَاۤ اَسْبَغَ نِعَمَکَ فِی الدُّنْیَا، وَ مَاۤ اَصْغَرَهَا فِیْ نِعَمِ الْاٰخِرَةِ!.

سبحان اللہ! یہ تیری کائنات جو ہم دیکھ رہے ہیں، کتنی عظیم الشان ہے اور تیری قدرت کے سامنے ان کی عظمت کتنی کم ہے اور یہ تیری بادشاہت جو ہماری نظروں کے سامنے ہے کتنی پر شکوہ ہے۔ لیکن تیری اس سلطنت کے مقابلہ میں جو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہے کتنی حقیر ہے اور دنیا میں یہ تیری نعمتیں کتنی کامل و ہمہ گیر ہیں مگر آخرت کی نعمتوں کے سامنے وہ کتنی مختصر ہیں۔

[اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے]

مِنْ مَّلٰٓئِکَةٍ اَسْکَنْتَهُمْ سَمٰوَاتِکَ، وَ رَفَعْتَهُمْ عَنْ اَرْضِکَ، هُمْ اَعْلَمُ خَلْقِکَ بِکَ، وَ اَخْوَفُهُمْ لَکَ، وَ اَقْرَبُهُمْ مِّنْکَ. لَمْ یَسْکُنُوا الْاَصْلَابَ، وَ لَمْ یُضَمَّنُوا الْاَرْحَامَ، وَ لَمْ یُخْلَقُوْا ﴿مِنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ۝﴾، وَ لَمْ یَتَشَعَّبْهُمْ رَیْبُ الْمَنُوْنِ، وَ اِنَّهُمْ عَلٰی مَکَانِهِمْ مِنْکَ، وَ مَنْزِلَتِهِمْ عِنْدَکَ، وَ اسْتِجْمَاعِ اَهْوَآئِهِمْ فِیْکَ، وَکَثْرَةِ طَاعَتِهِمْ لَکَ، وَ قِلَّةِ غَفْلَتِهِمْ عَنْ اَمْرِکَ، لَوْ عَایَنُوْا کُنْهَ مَا خَفِیَ عَلَیْهِمْ مِنْکَ لَحَقَّرُوْا اَعْمَالَهُمْ، وَ لَزَرَوْا عَلٰۤی اَنْفُسِهِمْ، وَ لَعَرَفُوْۤا اَنَّهُمْ لَمْ یَعْبُدُوْکَ حَقَّ عِبَادَتِکَ، وَ لَمْ یُطِیْعُوْکَ حَقَّ طَاعَتِکَ.

تو نے فرشتوں کو آسمانوں میں بسایا اور انہیں زمین کی سطح سے بلند رکھا۔ وہ سب مخلوق سے زیادہ تیری معرفت رکھتے ہیں اور سب سے زیادہ تجھ سے ڈرتے ہیں اور سب سے زیادہ تیرے مقرب ہیں۔ نہ وہ صلبوں میں ٹھہرے، نہ شکموں میں رکھے گئے، نہ ذلیل پانی (نطفہ) سے ان کی پیدائش ہوئی اور نہ زمانہ کے حوادث نے انہیں منتشر کیا۔ وہ تیرے قرب میں اپنے مقام و منزلت کی بلندی اور تیرے بارے میں خیالات کی یکسوئی اور تیری عبادت کی فراوانی اور تیرے احکام میں عدم غفلت کے باوجود اگر تیرے راز ہائے قدرت کی اس تہ تک پہنچ جائیں کہ جو ان سے پوشیدہ ہے، تو وہ اپنے اعمال کو بہت ہی حقیر سمجھیں گے اور اپنے نفسوں پر حرف گیری کریں گے اور یہ جان لیں گے کہ انہوں نے تیری عبادت کا حق ادا نہیں کیا اور نہ کماحقہ تیری اطاعت کی ہے۔

سُبْحَانَکَ خَالِقًا وَّ مَعْبُوْدًا! بِحُسْنِ بَلَآئِکَ عِنْدَ خَلْقِکَ، خَلَقْتَ دَارًا وَّ جَعَلْتَ فِیْهَا مَاْدُبَةً: مَشْرَبًا وَّ مَطْعَمًا، وَ اَزْوَاجًا وَّ خَدَمًا، وَ قُصُوْرًا وَّ اَنْهَارًا، وَ زُرُوْعًا وَّ ثِمَارًا.

میں خالق و معبود جانتے ہوئے تیری تسبیح کرتا ہوں۔ تیرے اس بہترین سلوک کی بنا پر جو تیرا اپنے مخلوقات کے ساتھ ہے۔ تو نے ایک ایسا گھر (جنت) بنایا ہے کہ جس میں مہمانی کیلئے کھانے پینے کی چیزیں، حوریں، غلمان، محل، نہریں، کھیت اور پھل مہیا کئے ہیں۔

ثُمَّ اَرْسَلْتَ دَاعِیًا یَّدْعُوْۤ اِلَیْهَا، فَلَا الدَّاعِیَ اَجَابُوْا، وَ لَا فِیْمَا رَغَّبْتَ رَغِبُوْا، وَ لَاۤ اِلٰی مَا شَوَّقْتَ اِلَیْهِ اشْتَاقُوْا.

پھر تو نے ان نعمتوں کی طرف دعوت دینے والا بھیجا، مگر نہ انہوں نے بلانے والے کی آواز پر لبیک کہی اور نہ ان چیزوں کی طرف راغب ہوئے جن کی تو نے رغبت دلائی تھی اور نہ ان چیزوں کے مشتاق ہوئے جن کا تو نے اشتیاق دلایا تھا۔

اَقْبَلُوْا عَلٰی جِیْفَةٍ قَدِ افْتَضَحُوْا بِاَکْلِهَا، وَ اصْطَلَحُوْا عَلٰی حُبِّهَا، وَ مَنْ عَشِقَ شَیْئًا اَعْشٰی بَصَرَهٗ، وَ اَمْرَضَ قَلْبَهٗ، فَهُوَ یَنْظُرُ بِعَیْنٍ غَیْرِ صَحِیْحَةٍ، وَ یَسْمَعُ بِاُذُنٍ غَیْرِ سَمِیْعَةٍ، قَدْ خَرَقَتِ الشَّهَوَاتُ عَقْلَهٗ، وَ اَمَاتَتِ الدُّنْیَا قَلْبَهٗ، وَ وَلِهَتْ عَلَیْهَا نَفْسُهٗ، فَهُوَ عَبْدٌ لَّهَا، وَ لِمَنْ فِیْ یَدَیْهِ شَیْءٌ مِّنْهَا، حَیْثُمَا زَالَتْ زَالَ اِلَیْهَا، وَ حَیْثُمَاۤ اَقْبَلَتْ اَقْبَلَ عَلَیْهَا، لَا یَنْزَجِرُ مِنَ اللهِ بِزَاجِرٍ، وَ لَایَتَّعِظُ مِنْهُ بِوَاعِظٍ، وَ هُوَ یَرَی الْمَاْخُوْذِیْنَ عَلَی الْغِرَّةِ، حَیْثُ لَاۤ اِقَالَةَ لَہُمْ وَ لَا رَجْعَةَ، کَیْفَ نَزَلَ بِهِمْ مَا کَانُوْا یَجْهَلُوْنَ، وَ جَآءَهُمْ مِنْ فِرَاقِ الدُّنْیَا مَا کَانُوْا یَاْمَنُوْنَ، وَ قَدِمُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ عَلٰی مَا کَانُوْا یُوْعَدُوْنَ.

وہ تو اسی مردار دنیا پر ٹوٹ پڑے کہ جسے نوچ کھانے میں اپنی عزت آبرو گنوا رہے تھے اور اس کی چاہت پر ایکا کر لیا تھا۔ جو شخص کسی شے سے بے تحاشا محبت کرتا ہے تو وہ اس کی آنکھوں کو اندھا، دل کو مریض کر دیتی ہے۔ وہ دیکھتا ہے تو بیمار آنکھوں سے، سنتا ہے تو نہ سننے والے کانوں سے۔ شہوتوں نے اس کی عقل کا دامن چاک کر دیا ہے اور دنیا نے اس کے دل کو مردہ بنا دیا ہے اور اس کا نفس اس پر مرمٹا ہے۔ یہ دنیا کا اور ان لوگوں کا جن کے پاس کچھ بھی وہ دنیا ہے بندہ و غلام بن گیا ہے۔ جدھر وہ مڑتی ہے ادھر یہ مڑتا ہے، جدھر اس کا رخ ہوتا ہے ادھر ہی اس کا رخ ہوتا ہے۔ نہ اللہ کی طرف سے کسی روکنے والے کے کہنے سننے سے وہ رکتا ہے اور نہ ہی اس کے کسی وعظ و پند کرنے والے کی نصیحت مانتا ہے۔ حالانکہ وہ ان لوگوں کو دیکھتا ہے کہ جنہیں عین غفلت کی حالت میں وہاں پر جکڑ لیا گیا کہ جہاں نہ تدارک کی گنجائش اور نہ دنیا کی طرف پلٹنے کا موقعہ ہوتا ہے اور کس طرح وہ چیزیں ان پر ٹوٹ پڑیں کہ جن سے وہ بے خبر تھے اور کس طرح اس دنیا سے جدائی (کی گھڑی سامنے) آ گئی کہ جس سے پوری طرح مطمئن تھے اور کیونکر آخرت کی ان چیزوں تک پہنچ گئے کہ جن کی انہیں خبر دی گئی تھی۔

فَغَیْرُ مَوْصُوْفٍ مَّا نَزَلَ بِهِمْ: اِجْتَمَعَتْ عَلَیْهِمْ سَکْرَةُ الْمَوْتِ وَ حَسْرَةُ الْفَوْتِ، فَفَتَرَتْ لَهَا اَطْرَافُهُمْ، وَ تَغَیَّرَتْ لَهَا اَلْوَانُهُمْ. ثُمَّ ازْدَادَ الْمَوْتُ فِیْهِمْ وُلُوْجًا، فَحِیْلَ بَیْنَ اَحَدِهِمْ وَ بَیْنَ مَنْطِقِهٖ، وَ اِنَّهٗ لَبَیْنَ اَهْلِهٖ یَنْظُرُ بِبَصَرِهٖ، وَ یَسْمَعُ بِاُذُنِهٖ، عَلٰی صِحَّةٍ مِّنْ عَقْلِهٖ، وَ بَقَآءٍ مِّنْ لُّبِّهٖ، یُفَکِّرُ فِیْمَ اَفْنٰی عُمْرَهٗ، وَ فِیْمَ اَذْهَبَ دَهْرَهٗ! وَ یَتَذَکَّرُ اَمْوَالًا جَمَعَهَا، اَغْمَضَ فِیْ مَطَالِبِهَا، وَ اَخَذَهَا مِنْ مُّصَرَّحَاتِهَا وَ مُشْتَبِهَاتِهَا، قَدْ لَزِمَتْهُ تَبِعَاتُ جَمْعِهَا، وَ اَشْرَفَ عَلٰی فِرَاقِهَا، تَبْقٰی لِمَنْ وَّرَآءَهٗ یَنْعَمُوْنَ فِیْهَا، وَ یَتَمَتَّعُوْنَ بِهَا، فَیَکُوْنُ الْمَهْنَاُ لِغَیْرِهٖ، وَالْعِبْءُ عَلٰی ظَهْرِهٖ. وَالْمَرْءُ قَدْ غَلِقَتْ رُهُوْنُهٗ بِهَا، فَهُوَ یَعَضُّ یَدَهٗ نَدَامَةً عَلٰی مَاۤ اَصْحَرَ لَهٗ عِنْدَ الْمَوْتِ مِنْ اَمْرِهٖ، وَ یَزْهَدُ فِیْمَا کَانَ یَرْغَبُ فِیْهِ اَیَّامَ عُمُرِهٖ، وَ یَتَمَنّٰۤی اَنَّ الَّذِیْ کَانَ یَغْبِطُهٗ بِهَا وَ یَحْسُدُهٗ عَلَیْهَا قَدْ حَازَهَا دُوْنَهٗ.

اب جو مصیبتیں ان پر ٹوٹ پڑی ہیں انہیں بیان نہیں کیا جا سکتا، موت کی سختیاں اور دنیا چھوڑنے کی حسرتیں مل کر انہیں گھیر لیتی ہیں۔ چنانچہ ان کے ہاتھ پیر ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور رنگتیں بدل جاتی ہیں۔ پھر ان (کے اعضاء) میں موت کی دخل اندازیاں بڑھ جاتی ہیں۔ کوئی ایسا ہوتا ہے کہ پہلے ہی اس کی زبان بند ہو جاتی ہے، در صورتیکہ اس کی عقل درست اور ہوش و حواس باقی ہوتے ہیں۔ وہ اپنے گھر والوں کے سامنے پڑا ہوا اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور اپنے کانوں سے سنتا ہے اور ان چیزوں کو سوچتا ہے کہ جن میں اس نے اپنی عمر گنوا دی ہے اور اپنا زمانہ گزار دیا ہے اور اپنے جمع کیے ہوئے مال و متاع کو یاد کرتا ہے کہ جس کے طلب کرنے میں (جائز و ناجائز سے) آنکھیں بند کر لی تھیں اور جسے صاف اور مشکوک ہر طرح کی جگہوں سے حاصل کیا تھا۔ اس کا وبال اپنے سر لے کر اسے چھوڑ دینے کی تیاری کرنے لگا۔ وہ مال (اب) اس کے پچھلوں کیلئے رہ جائے گا کہ وہ اس سے عیش و آرام کریں اور گل چھڑے اڑائیں۔ اس طرح وہ دوسروں کو تو بغیر ہاتھ پیر ہلائے یونہی مل گیا، لیکن اس کا بوجھ اس کی پیٹھ پر رہا اور یہ اس مال کی وجہ سے ایسا گروی ہوا ہے کہ بس اپنے کو چھڑا نہیں سکتا۔ مرنے کے وقت یہ حقیقت جو کھل کر اس کے سامنے آ گئی تو ندامت سے وہ اپنے ہاتھ کاٹنے لگتا ہے اور عمر بھر جن چیزوں کا طلب گار رہا تھا اب ان سے کنارہ ڈھونڈتا ہے اور یہ تمنا کرتا ہے کہ جو اس مال کی وجہ سے اس پر رشک و حسد کیا کرتے تھے (کاش کہ) وہی اس مال کو سمیٹتے نہ وہ۔

فَلَمْ یَزَلِ الْمَوْتُ یُبَالِغُ فِیْ جَسَدِهٖ حَتّٰی خَالَطَ لِسَانُهٗ سَمْعَهٗ، فَصَارَ بَیْنَ اَهْلِهٖ، لَا یَنْطِقُ بِلِسَانِهٖ، وَ لَا یَسْمَعُ بِسَمْعِهٖ: یُرَدِّدُ طَرْفَهٗ بِالنَّظَرِ فِیْ وجُوْهِهِمْ، یَرٰی حَرَکَاتِ اَلْسِنَتِهِمْ، وَ لَا یَسْمَعُ رَجْعَ کَلَامِهِمْ. ثُمَّ ازْدَادَ الْمَوْتُ الْتِیَاطًا بِهٖ، فَقُبِضَ بَصَرُهٗ کَمَا قُبِضَ سَمْعُهٗ، وَ خَرَجَتِ الرُّوْحُ مِنْ جَسَدِهٖ، فَصَارَ جِیْفَةًۢ بَیْنَ اَهْلِهٖ، قَدْ اَوْحَشُوْا مِنْ جَانِبِهٖ، وَ تَبَاعَدُوْا مِنْ قُرْبِهٖ. لَا یُسْعِدُ بَاکِیًا، وَ لَا یُجِیْبُ دَاعِیًا. ثُمَّ حَمَلُوْهُ اِلٰی مَخَطٍّ فِی الْاَرْضِ، فَاَسْلَمُوْهُ فِیْهِ اِلٰی عَمَلِهٖ، وَ انْقَطَعُوْا عَنْ زَوْرَتِهٖ.

اب موت کے تصرفات اس کے جسم میں اور بڑھے، یہاں تک کہ زبان کے ساتھ ساتھ کانوں پر بھی موت چھا گئی۔ گھر والوں کے سامنے اس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ نہ زبان سے بول سکتا ہے، نہ کانوں سے سن سکتا ہے، آنکھیں گھما گھما کر ان کے چہروں کو تکتا ہے، ان کی زبانوں کی جنبشوں کو دیکھتا ہے، لیکن بات چیت کی آوازیں نہیں سن پاتا۔ پھر اس سے موت اور لپٹ گئی کہ اس کی آنکھوں کو بھی بند کر دیا جس طرح اس کے کانوں کو بند کیا تھا اور روح اس کے جسم سے مفارقت کر گئی۔ اب وہ گھر والوں کے سامنے ایک مردار کی صورت میں پڑا ہوا ہے کہ اس کی طرف سے انہیں وحشت ہوتی ہے اور اس کے پاس پھٹکنے سے دور بھاگتے ہیں۔ وہ نہ رونے والے کی کچھ مدد کر سکتا ہے، نہ پکارنے والے کو جواب دے سکتا ہے۔ پھر اسے اٹھا کر زمین میں جہاں اس کی قبر بننا ہے لے جاتے ہیں اور اسے اس کے حوالے کر دیتے ہیں کہ اب وہ جانے اور اس کا کام اور اس کی ملاقات سے ہمیشہ کیلئے منہ موڑ لیتے ہیں۔

حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ الْکِتَابُ اَجَلَهٗ، وَ الْاَمْرُ مَقَادِیْرَهٗ، وَ اُلْحِقَ اٰخِرُ الْخَلْقِ بِاَوَّلِهٖ، وَ جَآءَ مِنْ اَمْرِ اللهِ مَا یُرِیْدُهٗ مِنْ تَجْدِیْدِ خَلْقِهٖ، اَمَادَ السَّمَآءَ وَ فَطَرَهَا، وَ اَرَجَّ الْاَرْضَ وَ اَرْجَفَهَا، وَ قَلَعَ جِبَالَهَا وَ نَسَفَهَا، وَ دَکَّ بَعْضُهَا بَعْضًا مِّنْ هَیْبَةِ جَلَالَتِهٖ وَ مَخُوْفِ سَطْوَتِهٖ، وَ اَخْرَجَ مَنْ فِیْهَا، فَجَدَّدَهُمْ بَعْدَ اِخْلَاقِهِمْ، وَ جَمَعَهُمْ بَعْدَ تَفَرُّقِهِمْ.

یہاں تک کہ نوشتہ (تقدیر) اپنی میعاد کو اور حکمِ الٰہی اپنی مقررہ حد کو پہنچ جائے گا اور پچھلوں کو اَگلوں کے ساتھ ملا دیا جائے گا اور فرمان قضا پھر سرے سے پیدا کرنے کا ارادہ لیکر آئے گا تو وہ آسمانوں کو جنبش میں لائے گا اور انہیں پھاڑ دے گا اور زمین کو ہلا ڈالے گا اور اس کی بنیادیں کھوکھلی کر دے گا اور پہاڑوں کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑ دے گا اور وہ اس کے جلال کی ہیبت اور قہر و غلبہ کی دہشت سے آپس میں ٹکرانے لگیں گے۔ وہ زمین کے اندر سے سب کو نکالے گا اور انہیں سڑ گل جانے کے بعد پھر از سر نو تر و تازہ کرے گا اور متفرق و پراگندہ ہونے کے بعد پھر یکجا کر دے گا۔

ثُمَّ مَیَّزَهُمْ لِمَا یُرِیْدُ مِنْ مَّسْئَلَتِهِمْ عَنْ خَفَایَا الْاَعْمَالِ وَ خَبَایَا الْاَفْعَالِ، وَ جَعَلَهُمْ فَرِیْقَیْنِ: اَنْعَمَ عَلٰی هٰٓؤُلَآءِ وَ انْتَقَمَ مِنْ هٰٓؤُلَآءِ. فَاَمَّا اَهْلُ الطَّاعَةِ فَاَثَابَهُمْ بِجِوَارِهٖ، وَ خَلَّدَهُمْ فِیْ دَارِهٖ، حَیْثُ لَا یَظْعَنُ النُّزَّالُ، وَ لَا تَتَغَیَّرُ بِهِمُ الْحَالُ، وَ لَا تَنُوْبُهُمُ الْاَفْزَاعُ، وَ لَا تَنَالُهُمُ الْاَسْقَامُ، وَ لَا تَعْرِضُ لَهُمُ الْاَخْطَارُ، وَ لَا تُشْخِصُهُمُ الْاَسْفَارُ.

پھر ان کے چھپے ہوئے اعمال اور پوشیدہ کار گزاریوں کے متعلق پوچھ گچھ کرنے کیلئے انہیں جدا جدا کرے گا اور انہیں دو حصوں میں بانٹ دے گا۔ ایک کو وہ انعام و اکرام دے گا اور ایک سے انتقام لے گا۔ جو فرمانبردار تھے انہیں جزا دے گا کہ وہ اس کے جوارِ رحمت میں رہیں اور اپنے گھر میں انہیں ہمیشہ کیلئے ٹھہرا دے گا کہ جہاں اترنے والے پھر کوچ نہیں کیا کرتے اور نہ ان کے حالات ادلتے بدلتے رہتے ہیں اور نہ انہیں گھڑی گھڑی خوف ستاتا ہے، نہ بیماریاں ان پر آتی ہیں، نہ انہیں خطرات درپیش ہوتے ہیں اور نہ انہیں سفر ایک جگہ سے دوسری جگہ لئے پھرتے ہیں۔

وَ اَمَّا اَهْلُ الْمَعْصِیَةِ فَاَنْزَلَهُمْ شَرَّ دَارٍ، وَ غَلَّ الْاَیْدِیَ اِلَی الْاَعْنَاقِ، وَ قَرَنَ النَّوَاصِیَ بِالْاَقْدَامِ، وَ اَلْبَسَهُمْ سَرَابِیْلَ الْقَطِرَانِ، وَ مُقَطَّعَاتِ النِّیْرَانِ، فِیْ عَذَابٍ قَدِ اشْتَدَّ حَرُّهٗ، وَ بَابٍ قَدْ اُطْبِقَ عَلٰۤی اَهْلِهٖ، فِیْ نَارٍ لَّهَا کَلَبٌ وَّ لَجَبٌ، وَ لَهَبٌ سَاطِعٌ، وَ قَصِیْفٌ هَآئِلٌ، لَا یَظْعَنُ مُقِیْمُهَا، وَ لَا یُفَادٰۤی اَسِیْرُهَا، وَ لَا تُفْصَمُ کُبُوْلُهَا. لَا مُدَّةَ لِلدَّارِ فَتَفْنٰی، وَ لَا اَجَلَ لِلْقَوْمِ فَیُقْضٰی.

اور جو نافرمان ہوں گے انہیں ایک برے گھر میں پھینکے گا اور ان کے ہاتھ گردن سے (کس کر) باندھ دے گا اور ان کی پیشانیوں پر لٹکنے والے بالوں کو قدموں سے جکڑ دے گا اور انہیں تارکول کی قمیضیں اور آگ سے قطع کئے ہوئے کپڑے پہنائے گا (یعنی ان پر تیل چھڑک کر آگ میں جھونک دے گا)۔ وہ ایسے عذاب میں ہوں گے کہ جس کی تپش بڑی سخت ہو گی اور (ایسی جگہ میں ہوں گے کہ جہاں) ان پر دروازے بند کر دیئے جائیں گے اور ایسی آگ میں ہوں گے کہ جس میں تیز شرارے، بھڑکنے کی آوازیں، اٹھتی ہوئی لپٹیں اور ہولناک چیخیں ہوں گی۔ اس میں ٹھہرنے والا نکل نہ سکے گا اور نہ ہی اس کے قیدیوں کو فدیہ دیکر چھڑا یا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کی بیڑیاں ٹوٹ سکتی ہیں۔ اس گھر کی کوئی مدّت مقرر نہیں کہ اس کے بعد مٹ مٹاجائے، نہ رہنے والوں کیلئے کوئی مقررہ میعاد ہے کہ وہ پوری ہو جائے (تو پھر چھوڑ دیئے جائیں)۔

[مِنْهَا: فِیْ ذِکْرِ النَّبِیِّ ﷺ]

[اسی خطبہ کا یہ جز نبی ﷺ کے متعلق ہے]

قَدْ حَقَّرَ الدُّنْیَا وَ صَغَّرَهَا، وَ اَهْوَنَ بِهَا وَ هَوَّنَهَا، وَ عَلِمَ اَنَّ اللهَ زَوَاهَا عَنْهُ اخْتِیَارًا، وَ بَسَطَهَا لِغَیْرِهِ احْتِقَارًا، فَاَعْرَضَ عَنِ الدُّنْیَا بِقَلْبِهٖ، وَ اَمَاتَ ذِکْرَهَا عَنْ نَّفْسِهٖ، وَ اَحَبَّ اَنْ تَغِیْبَ زِیْنَتُهَا عَنْ عَیْنِهٖ، لِکَیْلَا یَتَّخِذَ مِنْهَا رِیَاشًا، اَوْ یَرْجُوَ فِیْهَا مُقَامًا. بَلَّغَ عَنْ رَّبِّهٖ مُعْذِرًا، وَ نَصَحَ لِاُمَّتِهٖ مُنْذِرًا، وَ دَعَاۤ اِلَی الْجَنَّةِ مُبَشِّرًا.

انہوں نے (اس) دنیا کو ذلیل و خوار سمجھا اور پست و حقیر جانا اور جانتے تھے کہ اللہ نے ان کی شان کو بالاتر سمجھتے ہوئے دنیا کا رخ ان سے موڑا ہے اور اسے گھٹیا سمجھتے ہوئے دوسروں کیلئے اس کا دامن پھیلا دیا ہے، لہٰذا آپؐ نے دنیا سے دل ہٹا لیا اور اس کی یاد اپنے نفس سے مٹا ڈالی اور یہ چاهتے رہے کہ اس کی سج دھج ان کی نظروں سے اوجھل رہے کہ نہ اس سے عمدہ عمدہ لباس حاصل کریں اور نہ اس میں قیام کی آس لگائیں۔ انہوں نے عذر تمام کرتے ہوئے اپنے پروردگار کا پیغام پہنچا دیا اور ڈراتے ہوئے اُمت کو پند و نصیحت کی اور خوشخبری سناتے ہوئے جنت کی طرف دعوت دی۔

نَحْنُ شَجَرَةُ النُّبُوَّةِ، وَ مَحَطُّ الرِّسَالَةِ، وَ مُخْتَلَفُ الْمَلٰٓئِکَةِ، وَ مَعَادِنُ الْعِلْمِ، وَ یَنَابِیْعُ الْحِکَمِ، نَاصِرُنَا وَ مُحِبُّنَا یَنْتَظِرُ الرَّحْمَةَ، وَ عَدُوُّنَا وَ مُبْغِضُنَا یَنْتَظِرُ السَّطْوَةَ.

ہم نبوت کا شجرہ، رسالت کی منزل، ملائکہ کی فرودگاہ، علم کا معدن اور حکمت کا سر چشمہ ہیں۔ ہماری نصرت کرنے والا اور ہم سے محبت کرنے والا رحمت کیلئے چشم براہ ہے اور ہم سے دشمنی و عناد رکھنے والے کو قہر (الٰہی) کا منتظر رہنا چاہیے۔


balagha.org

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 28 January 23 ، 17:41
عون نقوی

وَ هِیَ مِنْ خُطَبِ الْمَلَاحِمِ

یہ ان خطبوں میں سے ہے جن میں زمانہ کے حوادث و فتن کا تذکرہ ہے

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الْمُتَجَلِّیْ لِخَلْقِهٖ بِخَلْقِهٖ، وَ الظَّاهِرِ لِقُلُوْبِهِمْ بِحُجَّتِهٖ، خَلَقَ الْخَلْقَ مِنْ غَیْرِ رَوِیَّةٍ، اِذْ کَانَتِ الرَّوِیَّاتُ لَا تَلِیْقُ اِلَّا بِذَوِی الضَّمَآئِرِ، وَ لَیْسَ بِذِیْ ضَمِیْرٍ فِیْ نَفْسِهٖ. خَرَقَ عِلْمُهٗ بَاطِنَ غَیْبِ السُّتُرَاتِ، وَ اَحَاطَ بِغُمُوْضِ عَقَآئِدِ السَّرِیْرَاتِ.

تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے جو اپنے مخلوقات کی وجہ سے مخلوقات کے سامنے عیاں ہے اور اپنی حجت و برہان کے ذریعہ سے دلوں میں نمایاں ہے۔ اس نے بغیر سوچ بچار میں پڑے مخلوق کو پیدا کیا۔ اس لئے کہ غور و فکر اس کے مناسب ہوا کرتی ہے جو دل و دماغ (جیسے اعضاء) رکھتا ہو اور وہ دل و دماغ کی احتیاج سے بری ہے۔ اس کا علم غیب کے پردوں میں سرایت کئے ہوئے ہے اور عقیدوں کی گہرائیوں کی تہ تک اترا ہوا ہے۔

[مِنْهَا: فِیْ ذِکْرِ النَّبِیِّ ﷺ]

[اس خطبہ کا یہ جُز نبی ﷺ کے متعلق ہے]

اِخْتَارَهٗ مِنْ شَجَرَةِ الْاَنْۢبِیَآءِ، وَ مِشْکَاةِ الضِّیَآءِ، وَ ذُؤَابَةِ الْعَلْیَآءِ، وَ سُرَّةِ الْبَطْحَآءِ، وَ مَصَابِیْحِ الظُّلْمَةِ، وَ یَنَابِیْعِ الْحِکْمَةِ.

انہیں انبیاءؑ کے شجرہ، روشنی کے مرکز (آل ابراہیمؑ)، بلندی کی جبیں (قریش)، بطحاء کی ناف (مکہ) اور اندھیرے کے چراغوں اور حکمت کے سر چشموں سے منتخب کیا۔

[وَ مِنْهَا]

[اس خطبہ کا یہ حصہ بھی رسول ﷺ ہی سے متعلق ہے]

طَبِیْبٌ دَوَّارٌۢ بِطِبِّهٖ، قَدْ اَحْکَمَ مَرَاهِمَهٗ، وَ اَحْمٰی مَوَاسِمَهٗ، یَضَعُ مِنْ ذٰلِکَ حَیْثُ الْحَاجَةُ اِلَیْهِ، مِنْ قُلُوْبٍ عُمْیٍ، وَ اٰذَانٍ صُمٍّ، وَ اَلْسِنَةٍۭ بُکْمٍ، مُتَتَبِّـعٌۢ بِدَوَآئِهٖ مَوَاضِعَ الْغَفْلَةِ، وَ مَوَاطِنَ الْحَیْرَةِ، لَمْ یَسْتَضِیْٓئُوْا بِاَضْوَآءِ الْحِکْمَةِ، وَ لَمْ یَقْدَحُوْا بِزِنَادِ الْعُلُوْمِ الثَّاقِبَةِ، فَهُمْ فِیْ ذٰلِکَ کَالْاَنْعَامِ السَّآئِمَةِ، وَ الصُّخُوْرِ الْقَاسِیَةِ.

وہ ایک طبیب تھے جو اپنی حکمت و طب کو لئے ہوئے چکر لگا رہا ہو، اس نے اپنے مرہم ٹھیک ٹھاک کر لئے ہوں اور داغنے کے آلات تپا لئے ہوں، وہ اندھے دلوں، بہرے کانوں، گونگی زبانوں ( کے علاج معالجہ) میں جہاں ضرورت ہوتی ہے، ان چیزوں کو استعمال میں لاتا ہو اور دوا لئے غفلت زدہ اور حیرانی و پریشانی کے مارے ہوؤں کی کھوج میں لگا رہتا ہو۔ مگر لوگوں نے نہ تو حکمت کی تنویروں سے ضیا و نور کو حاصل کیا اور نہ علومِ درخشاں کے چقماق کو رگڑ کر نورانی شعلے پیدا کئے، وہ اس معاملہ میں چرنے والے حیوانوں اور سخت پتھروں کے مانند ہیں۔

قَدِ انْجَابَتِ السَّرآئِرُ لِاَهْلِ الْبَصَآئِرِ، وَ وَضَحَتْ مَحَجَّةُ الْحَقِّ لِخَابِطِهَا، وَ اَسْفَرَتِ السَّاعَةُ عَنْ وَّجْهِهَا، وَ ظَهَرَتِ الْعَلَامَةُ لِمُتَوَسِّمِهَا. مَا لِیْۤ اَرَاکُمْ اَشْبَاحًۢا بِلَاۤ اَرْوَاحٍ، وَ اَرْوَاحًۢا بِلَاۤ اَشْبَاحٍ، وَ نُسَّاکًۢا بِلَا صَلَاحٍ، وَ تُجَّارًۢا بِلَاۤ اَرْبَاحٍ، وَ اَیْقَاظًا نُّوَّمًا، وَ شُهُوْدًا غُیَّبًا، وَ نَاظِرَةً عَمْیَآءَ، و سَامِعَةً صَمَّآءَ، وَ نَاطِقَةًۢ بَکْمَآءَ.

اہل بصیرت کیلئے چھپی ہوئی چیزیں ظاہر ہو گئی ہیں اور بھٹکنے والوں کیلئے حق کی راہ واضح ہو گئی اور آنے والی ساعت نے اپنے چہرے سے نقاب الٹ دی اور غور سے دیکھنے والوں کیلئے علامتیں ظاہر ہو چکی ہیں، لیکن تمہیں مَیں دیکھتا ہوں کہ پیکر بے روح اور روحِ بے قالب بنے ہوئے ہو، عابد بنے پھرتے ہو بغیر صلاح و تقویٰ کے اور تاجر بنے ہوئے ہو بغیر فائدوں کے، بیدار ہو مگر سو رہے ہو، حاضر ہو مگر ایسے جیسے غائب ہوں، دیکھنے والے ہو مگر اندھے، سننے والے ہو مگر بہرے، بولنے والے ہو مگر گونگے۔

رَایَةُ ضَلَالَۃٍ قَدْ قَامَتْ عَلٰی قُطْبِهَا، وَ تَفَرَّقَتْ بِشُعَبِهَا، تَکِیْلُکُمْ بِصَاعِهَا، وَ تَخْبِطُکُمْ بِبَاعِهَا، قَآئِدُهَا خَارِجٌ مِّنَ الْمِلَّةِ، قَآئِمٌ عَلٰی الضَّلَّةِ، فَلَا یَبْقٰی یَوْمَئِذٍ مِّنْکُمْ اِلَّا ثُفَالَةٌ کَثُفَالَةِ الْقِدْرِ، اَوْ نُفَاضَةٌ کَنُفَاضَةِ الْعِکْمِ، تَعْرُکُکُمْ عَرْکَ الْاَدِیْمِ، وَ تَدُوْسُکُمْ دَوْسَ الْحَصَیْدِ، وَ تَسْتَخْلِصُ الْمُؤْمِنَ مِنْۢ بَیْنِکُمُ اسْتِخْلَاصَ الطَّیْرِ الْحَبَّةَ الْبَطِیْنَةَ مِنْۢ بَیْنِ هَزِیْلِ الْحَبِّ.

گمراہی کا جھنڈا تو اپنے مرکز پر جم چکا ہے اور اس کی شاخیں (ہرسو) پھیل گئی ہیں۔ تمہیں (تباہ کرنے کیلئے) اپنے پیمانوں میں تول رہا ہے اور اپنے ہاتھوں سے تمہیں اِدھر ُادھر بھٹکا رہا ہے اس کا پیشرو ملتِ (اسلام) سے خارج ہے اور گمراہی پر ڈٹا کھڑا ہے۔ اس دن تم میں سے کوئی نہیں بچے گا، مگر کچھ گرے پڑے لوگ، جیسے دیگ کی کھرچن یا تھیلے کے جھاڑنے سے گرے ہوئے ریزے۔ وہ گمراہی تمہیں اس طرح مسل ڈالے گی جس طرح چمڑے کو مسلا جاتا ہے اور اس طرح روندے گی جیسے کٹی ہوئی زراعت کو روندا جاتا ہے اور (مصیبت و ابتلا کیلئے) تم میں سے مومن (کامل) کو اس طرح چن لے گی جس طرح پرندہ باریک دانوں میں سے موٹے دانہ کو چن لیتا ہے۔

اَیْنَ تَذْهَبُ بِکُمُ الْمَذَاهِبُ، وَ تَتِیْهُ بِکُمُ الْغَیَاهِبُ، وَ تَخْدَعُکُمُ الْکَوَاذِبُ؟ وَ مِنْ اَیْنَ تُؤْتَوْنَ وَ ﴿اَنّٰی تٌؤْفَکُوْنَ﴾؟ فَلِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابٌ، وَ لِکُلِّ غَیْبَةٍ اِیَابٌ، فَاسْتَمِعُوْا مِنْ رَّبَّانِیِّکُمْ، وَ اَحْضِرُوْا قُلُوْبَکُمْ، وَ اسْتَیْقِظُوْا اِنْ هَتَفَ بِکُمْ، وَ لْیَصْدُقْ رَآئِدٌ اَهْلَهٗ، وَ لْیَجْمَعْ شَمْلَهٗ، وَ لْیُحْضِرْ ذِهْنَهٗ، فَلَقَدْ فَلَقَ لَکُمُ الْاَمْرَ فَلْقَ الْخَرَزَةِ، وَ قَرَفَهٗ قَرْفَ الصَّمْغَةِ.

یہ (غلط) روشیں تمہیں کہاں لئے جا رہی ہیں اور یہ اندھیاریاں تمہیں کن پریشانیوں میں ڈال رہی ہیں اور یہ جھوٹی امیدیں تمہیں کاہے کا فریب دے رہی ہیں؟ کہاں سے لائے جاتے ہو اور کدھر پلٹائے جاتے ہو؟ ہر میعاد کا ایک نوشتہ ہوتا ہے اور ہر غائب کو پلٹ کر آنا ہے۔ اپنے عالم ربانی سے سنو۔ اپنے دلوں کو حاضر کرو۔ اگر تمہیں پکارے تو جاگ اٹھو۔ قوم کے نمائندہ کو تو اپنی قوم سے سچ ہی بولنا چاہیے اور اپنی پریشاں خاطری میں یکسوئی پیدا کرنا اور اپنے ذہن کو حاضر رکھنا چاہیے۔ چنانچہ اس نے حقیقت کو اس طرح واشگاف کر دیا ہے جس طرح (دھاگے میں پروئے جانے والے)مہرہ کو چیر دیا جاتا ہے اور اس طرح اسے (تہ سے) چھیل ڈالا ہے جیسے درخت سے گوند۔

فَعِنْدَ ذٰلِکَ اَخَذَ الْبَاطِلُ مَاٰخِذَهٗ، وَ رَکِبَ الْجَهْلُ مَرَاکِبَهٗ، وَ عَظُمَتِ الطَّاغِیَةُ، وَ قَلَّتِ الدَّاعِیَةُ، وَ صَالَ الدَّهْرُ صِیَالَ السَّبُعِ الْعَقُوْرِ، وَ هَدَرَ فَنِیْقُ الْبَاطِلِ بَعْدَ کُظُوْمٍ، وَ تَوَاخَی النَّاسُ عَلَی الْفُجْوْرِ، وَ تَهَاجَرُوْا عَلَی الدِّیْنِ، وَ تَحَابُّوْا عَلَی الْکَذِبِ، وَ تَبَاغَضُوْا عَلَی الصِّدْقِ.

باوجود اس کے باطل پھر اپنے مرکز پر آ گیا اور جہالت اپنی سواریوں پر چڑھ بیٹھی، اس کی طغیانیاں بڑھ گئی ہیں اور (حق کی) آواز دَب گئی ہے اور زمانہ نے پھاڑ کھانے والے درندے کی طرح حملہ کر دیا ہے اور باطل کا اونٹ چپ رہنے کے بعد پھر بلبلانے لگا ہے، لوگوں نے فسق و فجور پر آپس میں بھائی چارہ کر لیا ہے اور دین کے سلسلہ میں ان میں پھوٹ پڑی ہوئی ہے، جھوٹ پر تو ایک دوسرے سے یارانہ گانٹھ رکھا ہے اور سچ کے معاملہ میں باہم کد رکھتے ہیں۔

فَاِذَا کَانَ ذٰلِکَ کَانَ الْوَلَدُ غَیْظًا، وَ الْمَطَرُ قَیْظًا، وَ تَفِیْضُ اللِّئَامُ فَیْضًا، وَ تَغِیْضُ الْکِرَامُ غَیْضًا، وَ کَانَ اَهْلُ ذٰلِکَ الزَّمَانِ ذِئَابًا، وَسَلَاطَیْنُهٗ سِبَاعًا، وَ اَوْسَاطُهٗ اُکَّالًا، وَ فُقَرَاؤُهٗ اَمْوَاتًا، وَ غَارَ الصِّدْقُ، وَ فَاضَ الْکَذِبُ، وَ اسْتُعْمِلَتِ الْمَوَدَّةُ بِاللِّسَانِ، وَ تَشَاجَرَ النَّاسُ بِالْقُلُوْبِ، وَ صَارَ الْفُسُوْقُ نَسَبًا، وَ الْعَفَافُ عَجَبًا، وَ لُبِسَ الْاِسْلَامُ لُبْسَ الْفَرْوِ مَقْلُوْبًا.

(ایسے موقعہ پر) بیٹا (آنکھوں کی ٹھنڈک ہونے کے بجائے) غیظ و غضب کا سبب ہو گا اور بارشیں گرمی و تپش کا، کمینے پھیل جائیں گے اور شریف گھٹتے جائیں گے۔ اس زمانہ کے لوگ بھیڑیئے ہوں گے اور حکمران درندے، درمیانی طبقہ کے لوگ کھاپی کر مست رہنے والے اور فقیر و نادار بالکل مردہ، سچائی دَب جائے گی اور جھوٹ اُبھر آئے گا، محبت (کی لفظیں) صرف زبانوں پر آئیں گی اور لوگ دلوں میں ایک دوسرے سے کشیدہ رہیں گے، نسب کا معیار زنا ہو گا، عفت و پاکدامنی نرالی چیز سمجھی جائے گی اور اسلام کا لبادہ پوستین کی طرح الٹا اوڑھا جائے گا۔


balagha.org

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 28 January 23 ، 17:37
عون نقوی

وَ قَدْ سَمِعَ قَوْمًا مِّنْ اَصْحَابِہٖ یَسُبُّوْنَ اَھْلَ الشَّامِ اَیَّامَ حَرْبِھِمْ بِصِفِّیْنَ:

آپؐ نے جنگ صفین کے موقع پر اپنے ساتھیوں میں سے چند آدمیوں کو سنا کہ وہ شامیوں پر سب و شتم کر رہے ہیں تو آپؑ نے فرمایا:

اِنِّیْۤ اَکْرَهُ لَکُمْ اَنْ تَکُوْنُوْا سَبَّابِیْنَ، وَ لٰکِنَّکُمْ لَوْ وَصَفْتُمْ اَعْمَالَهُمْ، وَ ذَکَرْتُمْ حَالَهُمْ، کَانَ اَصْوَبَ فِی الْقَوْلِ، وَ اَبْلَغَ فِی الْعُذْرِ، وَ قُلْتُمْ مَکَانَ سَبِّکُمْ اِیَّاهُمْ: اَللّٰهُمَّ احْقِنْ دِمَآءَنَا وَ دِمَآءَهُمْ، وَ اَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِنَا وَ بَیْنِهِمْ، وَ اهْدِهِمْ مِنْ ضَلَالَتِهِمْ، حَتّٰی یَعْرِفَ الْحَقَّ مَنْ جَهِلَهٗ، وَ یَرْعَوِیَ عَنِ الْغَیِّ وَ الْعُدْوَانِ مَنْ لَّهِجَ بِهٖ.

میں تمہارے لئے اس چیز کو پسند نہیں کرتا کہ تم گالیاں دینے لگو۔ اگر تم ان کے کرتوت کھولو اور ان کے صحیح حالات پیش کرو تو یہ ایک ٹھکانے کی بات اور عذر تمام کرنے کا صحیح طریق کار ہو گا۔ تم گالم گلوچ کے بجائے یہ کہو کہ خدایا! ہمارا بھی خون محفوظ رکھ اور ان کا بھی اور ہمارے اور ان کے درمیان اصلاح کی صورت پیدا کر اور انہیں گمراہی سے ہدایت کی طرف لا، تاکہ حق سے بے خبر حق کو پہچان لیں اور گمراہی و سرکشی کے شیدائی اس سے اپنا رخ موڑ لیں۔


balagha.org

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 28 January 23 ، 11:40
عون نقوی

بنو عباس اور بنی امیہ جیسی حکومتوں کو اہلسنت کے آئمہ سے کوئی مسئلہ نہیں، لیکن اہل تشیع کے آئمہ سے دشمنی ہے۔۔۔۔۔۔ وجہ کیا ہے؟؟

رہبر معظم امام خامنہ ای:

دین کو قائم کرنا ذمہ داری ہے۔ دین کی حاکمیت قائم کرنا تمام ادیان کا ہدف رہا ہے۔ قرآن کریم میں انبیاء کرام کی بعثت کا ہدف اس طرح سے بیان ہوا ہے:

لیقوم الناس بالقسط

قسط و عدل کا قیام حاکمیت الہی کا قیام الہی ادیان کا ہدف ہے۔

ہمارے تمام آئمہ معصومین علیہم السلام کو تمام مصیبتیں اور زجر اسی لئے اٹھانا پڑا کہ وہ حاکمیت الہی کا احیاء کرنا چاہتے تھے۔ ورنہ امام باقر و امام صادق علیہما السلام اگر ایک کونے میں بیٹھ کر چار افراد کو فقہی مسئلہ بیان کرنے بیٹھے ہوتے تو پھر تو ان سے کسی کو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ خود امام صادق علیہ السلام ایک روایت میں بیان کرتے ہیں:

 ھذا ابو حنیفه له اصحاب و هذا الحسن البصری له اصحاب

ابو حنیفہ کے بھی شاگرد ہیں اور حسن بصری کے بھی اصحاب ہیں لیکن ان سے تو کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہے؟ بھلا کیوں؟

اس لئے کہ دشمن کو پتہ ہے یہ دونوں امت کی امامت کے دعوے دار نہیں ہیں؟ جبکہ حضرت امت کی زعامت و امامت کا ادعا کرتے ہیں ابو حنیفہ نے ایسا دعوی کبھی نہیں کیا تھا۔ اہل سنت کے تمام بڑے محدث و فقہاء امامت کا ادعا نہیں کرتے تھے ان سب کے امام منصور عباسی، عبدالملک اور ہارون تھے۔ 


 

حوالہ جات:

۱۔ حدید: ۲۵۔

۲۔ شیخ کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، کتاب الایمان والکفر، باب الکتمان، ح۵۔

۳- خامنہ ای، سید علی، ولایت و حکومت، صفحہ ۶۶۔

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 27 January 23 ، 18:31
عون نقوی

(۱۲۶)

عَجِبْتُ لِلْبَخِیْلِ یَسْتَعْجِلُ الْفَقْرَ الَّذِیْ مِنْهُ هَرَبَ، وَ یَفُوْتُهُ الْغِنَى الَّذِىْ اِیَّاهُ طَلَبَ، فَیَعِیْشُ فِی الدُّنْیَا عَیْشَ الْفُقَرَآءِ، وَ یُحَاسَبُ فِی الْاٰخِرَةِ حِسَابَ الْاَغْنِیَآءِ.

مجھے تعجب ہوتا ہے بخیل پر کہ وہ جس فقرو ناداری سے بھاگنا چاہتا ہے اس کی طرف تیزی سے بڑھتا ہے اور جس ثروت و خوشحالی کا طالب ہوتا ہے وہی اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ وہ دنیا میں فقیروں کی سی زندگی بسر کرتا ہے اور آخرت میں دولت مندوں کا سا اس سے محاسبہ ہو گا۔

وَ عَجِبْتُ لِلْمُتَکَبِّرِ الَّذِیْ کَانَ بِالْاَمْسِ نُطْفَةً وَّ یَکُوْنُ غَدًا جِیْفَةً.

اور مجھے تعجب ہوتا ہے متکبر و مغرور پر کہ جو کل ایک نطفہ تھا اور کل کو مردار ہو گا۔

وَ عَجِبْتُ لِمَنْ شَکَّ فِی اللهِ، وَ هُوَ یَرٰى خَلْقَ اللهِ.

اور مجھے تعجب ہے اس پر جو اللہ کی پیدا کی ہوئی کائنات کو دیکھتا ہے اور پھر اس کے وجود میں شک کرتا ہے۔

وَ عَجِبْتُ لِمَنْ نَسِیَ الْمَوْتَ، وَ هُوَ یَرَى الْمَوْتٰى.

اور تعجب ہے اس پر کہ جو مرنے والوں کو دیکھتا ہے اور پھر موت کو بھولے ہوئے ہے۔

وَ عَجِبْتُ لِمَن اَنْکَرَ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰى، وَ هُوَ یَرَى النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى.

اور تعجب ہے اس پر کہ جو پہلی پیدائش کو دیکھتا ہے اور پھر دوبارہ اٹھائے جانے سے انکار کرتا ہے۔

وَ عَجِبْتُ لِعَامِرِ دَارِ الْفَنَآءِ، وَ تَارِکِ دَارِ الْبَقَآءِ!.

اور تعجب ہے اس پر جو سرائے فانی کو آباد کرتا ہے اور منزل جاودانی کو چھوڑ دیتا ہے۔

(۱۲۷)

مَنْ قَصَّرَ فِی الْعَمَلِ ابْتُلِیَ بِالْهَمِّ، وَ لَا حَاجَةَ لِلّٰهِ فِیْمَنْ لَیْسَ لِلّٰهِ فِیْ مَالِہٖ وَ نَفْسِہٖ نَصِیْبٌ.

جو عمل میں کوتاہی کرتا ہے وہ رنج و اندوہ میں مبتلا رہتا ہے، اور جس کے مال و جان میں اللہ کا کچھ حصہ نہ ہو اللہ کو ایسے کی کوئی ضرورت نہیں۔


balagha.org

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 24 January 23 ، 18:44
عون نقوی