بصیرت اخبار

موت کی ہولناکی اور اس سے عبرت اندوزی

فَإِنَّکُمْ لَوْ قَدْ عَایَنْتُمْ مَا قَدْ عَایَنَ مَنْ مَاتَ مِنْکُمْ لَجَزِعْتُمْ وَ وَهِلْتُمْ وَ سَمِعْتُمْ وَ أَطَعْتُمْ وَ لَکِنْ مَحْجُوبٌ عَنْکُمْ مَا قَدْ عَایَنُوا وَ قَرِیبٌ مَا یُطْرَحُ الْحِجَابُ وَ لَقَدْ بُصِّرْتُمْ إِنْ أَبْصَرْتُمْ وَ أُسْمِعْتُمْ إِنْ سَمِعْتُمْ وَ هُدِیتُمْ إِنِ اهْتَدَیْتُمْ وَ بِحَقٍّ أَقُولُ لَکُمْ لَقَدْ جَاهَرَتْکُمُ الْعِبَرُ وَ زُجِرْتُمْ بِمَا فِیهِ مُزْدَجَرٌ وَ مَا یُبَلِّغُ عَنِ اللَّهِ بَعْدَ رُسُلِ السَّمَاءِ إِلاَّ الْبَشَرُ.

جن چیزوں کو تمہارے مرنے والوں نے دیکھا ہے اگر تم بھی دیکھ لیتے تو گھبرا جاتے اور سراسیمہ اور مضطرب ہو جاتے اور (حق کی بات) سنتے اور اس پر عمل کرتے۔ لیکن جو انہوں نے دیکھا ہے وہ ابھی تم سے پوشیدہ ہے اور قریب ہے کہ وہ پردہ اٹھا دیا جاۓ۔ اگر تم چشم بینا گوش شنوا رکھتے ہو تو تمہیں سنایا اور دکھایا جا چکا ہے اور ہدایت کی طلب ہے تو تمہیں ہدایت کی جا چکی ہے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ عبرتیں تمہیں بلند آواز سے پکار چکی ہیں اور دھمکانے والی چیزوں سے تمہیں دھمکایا جا چکا ہے۔ آسمانی رسولوں (فرشتوں) کے بعد بشر ہی ہوتے ہیں جو تم تک اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں۔ اسی طرح میری زبان سے جو ہدایت ہو رہی ہے در حقیقت اللہ کا پیغام ہے جو تم تک پہنچ رہا ہے۔

ترجمہ:

مفتی جعفر حسین اعلی اللہ مقامہؒ، ص۳۸۔

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 25 August 21 ، 22:23
عون نقوی

حکمت ۷

اعْجَبُوا لِهَذَا الْإِنْسَانِ یَنْظُرُ بِشَحْمٍ وَ یَتَکَلَّمُ بِلَحْمٍ وَ یَسْمَعُ بِعَظْمٍ وَ یَتَنَفَّسُ مِنْ خَرْمٍ.

یہ انسان تعجت کے قابل ہے کہ وہ چربی سے دیکھتا ہے، اور گوشت کے لوتھڑے سے بولتا ہے، اور ہڈی سے سنتا ہے، اور ایک سوراخ سے سانس لیتا ہے۔

حکمت ۸

إِذَا أَقْبَلَتِ الدُّنْیَا عَلَی أَحَدٍ أَعَارَتْهُ مَحَاسِنَ غَیْرِهِ، وَ إِذَا أَدْبَرَتْ عَنْهُ سَلَبَتْهُ مَحَاسِنَ نَفْسِهِ.

جب دنیا(اپنی نعمتوں کو لے کر) کسی کی طرف بڑھتی ہے، تو دوسروں کی خوبیاں بھی اسے عاریت دے دیتی ہے، اور جب اس سے رخ موڑ لیتی ہے، تو خود اس کی خوبیاں بھی اس سے چھین لیتی ہے۔

حکمت ۹

خَالِطُوا النَّاسَ مُخَالَطَهً إِنْ مِتُّمْ مَعَهَا بَکَوْا عَلَیْکُمْ وَ إِنْ عِشْتُمْ حَنُّوا إِلَیْکُمْ.

لوگوں سے اس طریقہ سے ملو کہ اگر مر جاؤ تو تم پر روئیں، اور زندہ رہو تو تمہارے مشتاق ہوں۔

 

 


ترجمہ:

مفتی جعفر حسین اعلی اللہ مقامہؒ، نہج البلاغہ اردو، ص۳۵۹۔

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 25 August 21 ، 19:40
عون نقوی

فَاعِلُ الْخَیْرِ خَیْرٌ مِنْهُ وَ فَاعِلُ الشَّرِّ شَرٌّ مِنْهُ.

نیک کام کرنے والا خود اس کام سے بہتر اور برائی کرنے والا خود اس برائی سے بدتر ہے۔

ترجمہ:

مفتی جعفر حسین اعلی اللہ مقامہؒ، ص۳۶۳۔

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 25 August 21 ، 19:23
عون نقوی

آیت اللہ حائری شیرازی:

شب عاشور امام نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ ان یزیدیوں کی جنگ مجھ سے ہے میں تم سب سے اپنی بیعت اٹھاتا ہوں جس نے جانا ہے چلا جاۓ حتی چراغ بجھا دیے تاکہ کسی کو جانے میں عار محسوس نہ ہو لیکن اسی امام نے روز عاشور ''ھل من ناصر" کی صدا بلند کی اور فرمایا ہے کوئی نصرت کرنے والا؟؟ اگر نصرت ہی چاہیے تھی تو رات کو جانے کے لیے کیوں کہہ رہے تھے؟ 

جواب:
امام نے وہ کلام رات کو کیا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کوئی خبیث شخص طیبین میں نہ ہو، کہ اگر کوئی ہے بھی تو اٹھ جائے۔  اور دن کو وہ کلام اس لیے کیا کہ کوئی طیب شخص خبیثوں میں نا ہو کہ اگر کوئی ہے تو ہماری طرف اجاۓ۔ امام نے رات کو اپنے اصحاب کو چھانا تاکہ فقط صالحین موجود رہیں اور دن کو یزید کے لشکر کو چھانا تاکہ اس کے لشکر میں فقط اشقیاء رہیں۔

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 25 August 21 ، 19:08
عون نقوی

بِسْمِ اللہِ الرَحْمنِ الرَحیمْ

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

إلھِی أَتَراکَ بَعْدَ الْاِیمانِ بِکَ تُعَذِّبُنِی أَمْ بَعْدَ حُبِّی إیَّاکَ تُبَعِّدُنِی

میرے معبود کیا تجھے ایسا سمجھوں کہ تجھ پر ایمان رکھنے کے باوجود مجھے عذاب دے گا یا تجھ سے محبت کروں تو بھی مجھے دورکرے گا

أَمْ مَعَ رَجائِی لِرَحْمَتِکَ وَصَفْحِکَ تَحْرِمُنِی أَمْ مَعَ اسْتِجارَتِی بِعَفْوِکَ تُسْلِمُنِی حَاشَا لِوَجْھِکَ الْکَرِیمِ أَنْ تُخَیِّبَنِی

یا تیری رحمت و چشم پوشی کی امید رکھوں تو بھی محروم کرے گا یا تیرے عفو کی پناہ لوں تو بھی مجھے آگ کے سپرد کرے گا نہیں تیری ذات کریم ہے بعید ہے کہ مجھے نا امید کرے

لَیْتَ شِعْرِی أَلِلشَّقاءِ وَلَدَتْنِی ٲُمِّی أَمْ لِلْعَناء رَبَّتْنِی فَلَیْتَھا لَمْ تَلِدْنِی، وَلَمْ تُرَبِّنِی

کاش میں جان سکتا کہ آیا میری ماں نے مجھے بدبختی کے لیے جنا یا دکھ کے لیے پالا کاش وہ مجھے نہ جنتی اور مجھے نہ پالتی

وَلَیْتَنِی عَلِمْتُ أَمِنْ أَھْلِ السَّعادَۃِ جَعَلْتَنِی وَبِقُرْبِکَ وَجِوارِکَ خَصَصْتَنِی، فَتَقِرَّ بِذلِکَ عَیْنِی، وَتَطْمَئِنَّ لَہُ نَفْسِی

اور کاش مجھے یہ علم ہوتا کہ آیا تو نے مجھے نیک بختوں میں قرار دیا اور قرب و نزدیکی کے لیے مجھے خاص کیا ہے تو اس سے میری آنکھیں روشن اور دل مطمئن ہوجاتا

إلھِی ھَلْ تُسَوِّدُ وُجُوھا خَرَّتْ ساجِدَۃً لِعَظَمَتِکَ

میرے معبود آیا توان چہروں کو سیاہ کردے گا جو تیری عظمت کو سجدے کرتے ہیں

أَوْ تُخْرِسُ أَلْسِنَۃً نَطَقَتْ بِالثَّناء عَلی مَجْدِکَ وَجَلالَتِکَ

یا ان زبانوں کو گنگ کرے گا جو تیری اونچی شان اور جلالت کی تعریف میں تر ہیں

أَوْ تَطْبَعُ عَلیٰ قُلُوبٍ انْطَوَتْ عَلیٰ مَحَبَّتِکَ

یا ان دلوں پر مہر لگائے گا جو اپنے اندر تیری محبت لیے ہوئے ہیں

أَوْ تُصِمُّ أَسْمَاعاً تَلَذَّذَتْ بِسَمَاعِ ذِکْرِکَ فِی إِرَادَتِکَ

یا ان کانوں کو بہرا کرے گا جو تیرا ذکر سننے کا شرف حاصل کرتے ہیں

أَوْ تَغُلُّ أَکُفّاً رَفَعَتْھَا الْآمَالُ إلَیْکَ رَجَاءَ رَأْفَتِکَ

یاان ہاتھوں کو باندھے گاجن کو تیری رحمت کی امید نے تیرے حضور پھیلایا ہے

أَوْ تُعاقِبُ أَبْداناً عَمِلَتْ بِطاعَتِکَ حَتَّی نَحِلَتْ فِی مُجاھَدَتِکَ

یا ان بدنوں کوعذاب دے گا جنہوں نے تیری اطاعت کی حتیٰ کہ اس کوشش میں لاغر ہوگئے

أَوْ تُعَذِّبُ أَرْجُلاً سَعَتْ فِی عِبادَتِکَ

یا ان پاؤں کو عذاب کرے گا جو عبادت کیلئے دوڑتے ہیں

إلھِی لاَ تُغْلِقْ عَلی مُوَحِّدِیکَ أَبْوابَ رَحْمَتِکَ وَلاَ تَحْجُبْ مُشْتاقِیکَ عَنِ النَّظَرِ إلی جَمِیلِ رُؤْیَتِکَ

میرے معبود جو تیری توحید کے پرستار ہیں ان پر رحمت کے دروازے بند نہ کر اور جو تیرا شوق دیدار رکھتے ہیں ان کو اپنی تجلیوں پر نظر کرنے سے محروم نہ کرنا

إلھِی نَفْسٌ أَعْزَزْتَھا بِتَوْحِیدِکَ کَیْفَ تُذِلُّھا بِمَھانَۃِ ھِجْرانِکَ

میرے معبود جس جان کو تو نے اپنی توحید پر ایمان کی عزت دی کیونکراسے ہجر کی اہانت سے ذلیل کرے گا

وَضَمِیرٌ انْعَقَدَ عَلی مَوَدَّتِکَ کَیْفَ تُحْرِقُہُ بِحَرارَۃِ نِیرانِکَ

اور جس دل میں تیری محبت سمائی ہوئی ہے اسکو اپنی آگ کی تپش میں کسطرح جلائے گا

إلھِی أَجِرْنِی مِنْ أَلِیمِ غَضَبِکَ، وَعَظِیمِ سَخَطِکَ

میرے معبود مجھے دردناک غضب اور سخت ناراضی سے بچانا

یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ، یَا رَحِیمُ یَا رَحْمانُ

اے محبت والے اے احسان والے اے مہربان اے رحم والے

یَا جَبَّارُ یَا قَھَّارُ یَا غَفَّارُ یَا سَتَّارُ

اے زبردست اے غلبے والے اے بخشنے والے اے پردہ پوش

نَجِّنِی بِرَحْمَتِکَ مِنْ عَذابِ النَّارِ، وَفَضِیحَۃِ الْعارِ، اِذَا امْتَازَ الْاَخْیَارُ مِنَ الْاَشْرارِ

مجھے اپنی رحمت سے عذاب جہنم سے نجات دے رسوائی پر شرمندگی سے بچا جب نیک لوگ الگ ہوں گے برے لوگوں سے

وَحَالَتِ الْاَحْوَالُ وَھَالَتِ الْاَھْوَالُ، و قَرُبَ الْمُحْسِنُونَ وَبَعُدَ الْمُسِیئُونَ

جب حالات دگرگوں ہوں گے اور خوف و خطر گھیر لیں گے اچھے لوگ قریب کیے جائیں گے اور برے لوگ دھتکارے جائیں گے

وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ ما کَسَبَتْ وَھُمْ لاَیُظْلَمُونَ

اور ہر نفس نے جو کیا وہ پورا پورا پائے گا اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔

source: mafatih.net

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 25 August 21 ، 18:59
عون نقوی