بصیرت اخبار

بِسْمِ اللہِ الرَحْمنِ الرَحیمْ

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

إلھِی إلَیْکَ أَشْکُو نَفْساً بِالسُّوءِ أَمَّارَۃً وَ إلَی الْخَطِیئَۃِ مُبادِرَۃً

اے معبود میں تجھ سے اپنے نفس کی شکایت کرتا ہوں جو برائی پر اکسانے والا اور خطاکی طرف بڑھنے والا ہے

وَبِمَعاصِیکَ مُوْلَعَۃً وَ لِسَخَطِکَ مُتَعَرِّضَۃً تَسْلُکُ بِی مَسالِکَ الْمَھَالِکِ وَتَجْعَلُنِی عِنْدَکَ أَھْوَنَ ھَالِکٍ کَثِیرَۃَ الْعِلَلِ، طَوِیلَۃَ الْاَمَلِ

وہ تیری نافرمانی کا شائق اور تیری ناراضی سے ٹکر لیتا ہے وہ مجھے تباہی کی راہوں پر لے جاتا ہے اور اس نے مجھے تیرے سامنے ذلیل اور تباہ حال بنادیا ہے یہ بڑا بہانہ ساز اور لمبی امیدوں والا ہے

إنْ مَسَّھَا الشَّرُّ تَجْزَعُ، وَ إنْ مَسَّھَا الْخَیْرُ تَمْنَعُ، مَیَّالَۃً إلَی اللَّعِبِ وَاللَّھْوِ، مَمْلُوْئَۃً بِالْغَفْلَۃِ وَالسَّھْوِ

اگر اسے تکلیف ہو تو چلاتا ہے اور اگر آرام پہنچے تو چپ رہتا ہے وہ کھیل تماشے کی طرف زیادہ مائل اورغفلت اور بھول چوک سے بھرا پڑا ہے

تُسْرِعُ بِی إلی الْحَوْبَۃِ، وَتُسَوِّفُنِی بِالتَّوْبَۃِ

مجھے تیزی سے گناہ کی طرف لے جاتاہے اور توبہ کرنے میں تاخیر کرتا ہے

الِھِی أَشْکُو إلَیْکَ عَدُوّاً یُضِلُّنِی، وَشَیْطاناً یُغْوِینِی، قَدْ مَلَأَ بِالْوَسْواسِ صَدْرِی

میرے معبود میں تجھ سے شکایت کرتا ہوں اس دشمن کی جو گمراہ کرتا ہے اور شیطان کی جو بہکاتا ہے اس نے میرے سینے کو برے خیالوں سے بھردیا

وَأَحاطَتْ ھَواجِسُہ بِقَلْبِی، یُعاضِدُ لِیَ الْھَویٰ، وَیُزَیِّنُ لِی حُبَّ الدُّنْیا وَیَحُولُ بَیْنِی وَبَیْنَ الطَّاعَۃِ وَالزُّلْفیٰ

اسکی خواہشوں نے میرے دل کو گھیرلیا ہے بری خواہشوں میں مدد کرتا ہے اوردنیاکی محبت کواچھا بنا کر دکھاتا ہے وہ میرے اور تیری بندگی اور قرب کے درمیان حائل ہوگیاہے

إلھِی إلَیْکَ أَشْکُو قَلْباً قاسِیاً مَعَ الْوَسْواسِ مُتَقَلِّباً، وَبِالرَّیْنِ وَالطَّبْعِ مُتَلَبِّساً

اے معبود میں تجھ سے دل کی سختی کی شکایت کرتا ہوں اورمسلسل وسواسوں کی شکایت کرتا ہوں جورنگ و تیرگی سے آلودہ ہے

وَعَیْناً عَنِ الْبُکاءِ مِنْ خَوْفِکَ جامِدَۃً، وَ إلی ما یَسُرُّہا طامِحَۃً

اس آنکھ کی شکایت کرتا ہوں جو تیرے خوف میں گریہ نہیں کرتی اور جو چیز اچھی لگے اس سے خوش ہے

إلھِی لاَ حَوْلَ لِی وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِقُدْرَتِکَ، وَلاَ نَجاۃَ لِی مِنْ مَکارِہِ الدُّنْیا إلاَّ بِعِصْمَتِکَ

اے معبود نہیں میری حرکت اور نہیں طاقت مگر جو تیری قدرت سے ملتی ہے میں بچ نہیں سکتا دنیا کی برائیوں سے مگرصرف تیری نگہداشت سے

فَأَسْأَلُکَ بِبَلاغَۃِ حِکْمَتِکَ، وَنَفاذِ مَشِیْئَتِکَ، أَنْ لاَ تَجْعَلَنِی لِغَیْرِ جُودِکَ مُتَعَرِّضاً

پس تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری گہری حکمت اور تیری پوری ہونے والی مرضی کے واسطے سے کہ مجھے اپنی بخشش کے سوا کسی طرف نہ جانے دے

وَلاَ تُصَیِّرَنِی لِلْفِتَنِ غَرَضاً، وَکُنْ لِی عَلَی الْأَعْداءِ ناصِراً

اور مجھے فتنوں کا ہدف نہ بننے دے اور دشمنوں کے مقابل میرا مددگار بن

وَعَلَیٰ الْمَخازِی وَالْعُیُوبِ ساتِراً وَمِنَ الْبَلاءِ واقِیاً وَعَنِ الْمَعاصِی عاصِماً بِرَأْفَتِکَ وَرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

میرے عیبوں اور رسوائیوں کی پردہ پوشی فرما مجھ سے مصیبتیں دور کر اور گناہوں سے بچائے رکھ اپنی رحمت و نوازش سےاے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

source: mafatih.net

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 25 August 21 ، 18:50
عون نقوی

بِسْمِ اللہِ الرَحْمنِ الرَحیمْ

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

إلھِی أَلْبَسَتْنِی الْخَطایا ثَوْبَ مَذَلَّتِی وَجَلَّلَنِی التَّباعُدُ مِنْکَ لِباسَ مَسْکَنَتِی

اے معبود میرے گناہوں نے مجھے ذلت کا لباس پہنا دیا تجھ سے دوری کے باعث بے چارگی نے مجھے ڈھانپ لیا

وَأَماتَ قَلْبِی عَظِیمُ جِنایَتِی فَأَحْیِہِ بِتَوْبَۃٍ مِنْکَ یَا أَمَلِی وَبُغْیَتِی، وَیَا سُؤْلِی وَمُنْیَتِی

بڑے بڑے جرائم نے میرے دل کو مردہ بنادیا پس توفیق توبہ سے اس کو زندہ کردے اے میری امید اے میری طلب اے میری چاہت اے میری آرزو

فَوَعِزَّتِکَ ما أَجِدُ لِذُنُوبِی سِواکَ غافِراً وَلاَ أَرَیٰ لِکَسْرِی غَیْرَکَ جابِراً وَقَدْ خَضَعْتُ بِالْاِنابَۃِ إلَیْکَ، وَعَنَوْتُ بِالْاِسْتِکَانَۃِ لَدَیْکَ

مجھے تیری عزت کی قسم کہ سوائے تیرے میرے گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں اور تیرے سوا کوئی میری کمی پوری کرنے والا نظر نہیں آتا میں تیرے حضور جھک کر توبہ و استغفار کرتا ہوں اور درماندہ ہو کر تیرے سامنے آپڑا ہوں

فَإنْ طَرَدْتَنِی مِنْ بابِکَ فَبِمَنْ أَلُوذُ وَ إنْ رَدَدْتَنِی عَنْ جَنابِکَ فَبِمَنْ أَعُوذُ

اگر تو مجھے اپنی بارگاہ سے نکال دے تو میں کس کا سہارا لوں گا اور اگر تو نے مجھے اپنے آستانے سے دھتکار دیا تو کس کی پناہ لوں گا

فَوا أَسَفاہُ مِنْ خَجْلَتِی وَافْتِضاحِی وَوا لَھْفاھُ مِنْ سُوءِ عَمَلِی وَاجْتِراحِی

پس وائے ہو میری شرمساری و رسوائی پراور صد افسوس میری اس بد عملی اور آلودگی پر

أَسْأَلُکَ یَا غافِرَ الذَّنْبِ الْکَبِیرِ، وَیَا جابِرَ الْعَظْمِ الْکَسِیرِ، أَنْ تَھَبَ لِی مُوبِقاتِ الْجَرائِرِ

سوال کرتا ہوں تجھ سے اے گناہان کبیرہ کو بخشنے والے اور ٹوٹی ہڈی کو جوڑنے والے کہ میرے سخت ترین جرائم کو بخش دے

وَتَسْتُرَ عَلَیَّ فاضِحاتِ السَّرائِرِ وَلاَ تُخْلِنِی فِی مَشْھَدِ الْقِیامَۃِ مِنْ بَرْدِ عَفْوِکَ وَغَفْرِکَ وَلاَ تُعْرِنِی مِنْ جَمِیلِ صَفْحِکَ وَسَتْرِکَ

اور رسوا کرنے والے بھیدوں کی پردہ پوشی فرما میدان قیامت میں مجھے اپنی بخشش اور مغفرت سے محروم نہ فرما اور اپنی بہترین پردہ داری و چشم پوشی سے محروم نہ کر

إِلٰھِی ظَلِّلْ عَلیٰ ذُنُوبِی غَمامَ رَحْمَتِکَ، وَأَرْسِلْ عَلی عُیُوبِی سَحابَ رَأْفَتِکَ

اے معبود میرے گناہوں پر اپنے ابر رحمت کا سایہ ڈال دے اور میرے عیبوں پر اپنی مہربانی کا مینہ برسادے

إلھِی ھَلْ یَرْجِعُ الْعَبْدُ الْآبِقُ إلاَّ إلی مَوْلاہُ أَمْ ھَلْ یُجِیرُہُ مِنْ سَخَطِہِ أَحَدٌ سِواہُ

اے معبود کیا بھاگا ہوا غلام سوائے اپنے آقا کے کسی کے پاس لوٹتا ہے یا یہ کہ آقا کی ناراضی پرسوائے اسکے کوئی اسے پناہ دے سکتا ہے

إلھِی إنْ کانَ النَّدَمُ عَلَی الذَّنْبِ تَوْبَۃً فَإنِّی وَعِزَّتِکَ مِنَ النَّادِمِینَ وَ إنْ کانَ الاسْتِغْفارُ مِنَ الْخَطِیئَۃِ حِطَّۃً فَإنِّی لَکَ مِنَ الْمُسْتَغْفِرِینَ،

میرے معبود اگر گناہ پر پشیمانی کا مطلب توبہ ہی ہے تو مجھے تیری عزت کی قسم کہ میں پشیمان ہونے والوں میں ہوں اور اگر خطا کی معافی مانگنے سے خطا معاف ہوجاتی ہے تو بے شک میں تجھ سے معافی مانگنے والوں میں ہوں

لَکَ الْعُتْبَیٰ حَتَّی تَرْضَیٰ إلھِی بِقُدْرَتِکَ عَلَیَّ تُبْ عَلَیَّ، وَبِحِلْمِکَ عَنِّی اعْفُ عَنِّی وَبِعِلْمِکَ بِی ارْفَقْ بِی

تیری چوکھٹ پر ہوں حتیٰ کہ تو راضی ہوجائے اے معبود اپنی قدرت سے میری توبہ قبول فرما اور اپنی ملائمت سے مجھے معاف فرما اور میرے متعلق اپنے علم سے مجھ پر مہربانی کر

إلھِی أَنْتَ الَّذِی فَتَحْتَ لِعِبادِکَ بَاباً إلی عَفْوِکَ سَمَّیْتَہُ التَّوْبَۃَ فَقُلْتَ تُوبُوا إلَی اللہِ تَوْبَۃً نَصُوحاً فَمَا عُذْرُ مَنْ أَغْفَلَ دُخُولَ الْبابِ بَعْدَ فَتْحِہ

اے معبود تو وہ ہے جس نے اپنے بندوں کے لیے عفو و درگذر کا دروازہ کھولا کہ جسے تو نے توبہ کا نام دیا تو نے ہی فرما یا کہ توبہ کرو خدا کے حضور مؤثر توبہ پس کیا عذر ہے اس کا جو کھلے ہوئے دروازے سے داخل ہونے میں غفلت کرے

إلھِی إنْ کانَ قَبُحَ الذَّنْبُ مِنْ عَبْدِکَ فَلْیَحْسُنِ الْعَفْوُ مِنْ عِنْدِکَ

اے معبود اگرچہ تیرے بندے سے گناہ ہوجانا بری بات ہے لیکن تیری طرف سے معافی تو اچھی ہے

إلھِی مَا أَنَا بِأَوَّلِ مَنْ عَصَاکَ فَتُبْتَ عَلَیْہِ وَتَعَرَّضَ لِمَعْرُوفِکَ فَجُدْتَ عَلَیْہِ

اے معبود میں ہی وہ پہلا نافرمان کہ جسکی توبہ تونے قبول کی ہو اور وہ تیرے احسان کا طالب ہوا تو تو نے اس پر عطا کی ہو

یَا مُجِیبَ الْمُضْطَرِّ یَا کَاشِفَ الضُّرِّ یَا عَظِیمَ الْبِرِّ

اے بے قرار کی دعا قبول کرنے والے اے سختی ٹالنے والے اے بہت احسان کرنے والے

یَا عَلِیماً بِمَا فِی السِّرِّ، یَا جَمِیلَ السِّتْرِ اسْتَشْفَعْتُ بِجُودِکَ وَکَرَمِکَ إلَیْکَ وَتَوَسَّلْتُ بِجَنابِکَ وَتَرَحُّمِکَ لَدَیْکَ

اے پوشیدہ باتوں کے جاننے والے اے بہتر پردہ پوشی کرنے والے میں تیری جناب میں تیری بخشش و احسان کو شفیع بناتا ہوں اور تیرے سامنے تیری ذات اور تیرے رحم کو وسیلہ قرار دیتا ہوں

فَاسْتَجِبْ دُعائِی وَلاَ تُخَیِّبْ فِیکَ رَجائِی، وَتَقَبَّلْ تَوْبَتِی وَکَفِّرْ خَطِیئَتِی، بِمَنِّکَ وَرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

پس میری دعا قبول فرما اور تجھ سے میری جو امید ہے اسے نہ توڑ میری توبہ قبول فرما اور اپنے رحم و کرم سے میری خطائیں معاف کردے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

 

source: mafatih.net

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 24 August 21 ، 14:20
عون نقوی

اَللّهُمَّ اِنّى اَسْئَلُکَ الاَْمانَ یَوْمَ لا یَنْفَعُ مالٌ وَلابَنُونَ اِلاّ مَنْ اَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلیمٍ
وَاَسْئَلُکَ الاَْمانَ یَوْمَ یَعَضُّ الظّالِمُ عَلى یَدَیْهِ یَقُولُ یا لَیْتِنىِ اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبیلاً
وَاَسْئَلُکَ الاَْمانَ یَوْمَ یُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسیماهُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّواصى وَالاَْقْدامِ
وَاَسْئَلُکَ الاَْمانَ یَوْمَ لا یَجْزى والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَیْئاً اِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقُّ 1

وَاَسْئَلُکَ الاَْمانَ یَوْمَ لا یَنْفَعُ الظّالِمینَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوَّءُ الدّارِ
وَاَسْئَلُکَ الاَْمانَ یَوْمَ لا تَمْلِکُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَیْئاً وَالاَْمْرُ یَوْمَئِذٍ لِلَّهِ
وَاَسْئَلُکَ الاَْمانَ یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخیهِ وَاُمِّهِ وَاَبیهِ وَصاحِبَتِهِ وَبَنیهِ لِکُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ یَوْمَئِذٍ شَاءْنٌ یُغْنیهِ
وَاَسْئَلُکَ الاَْمانَ یَوْمَ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدى مِنْ عَذابِ یَوْمَئِذٍ بِبَنیهِ وَصاحِبَتِهِ وَاَخیهِ وَفَصیلَتِهِ الَّتى تُؤْویهِ
وَمَنْ فِى الاَْرْضِ جَمیعاً ثُمَّ یُنْجیهِ کَلاّ اِنَّها لَظى نَزّاعَةً لِلشَّوى 2

مَوْلاىَ یا مَوْلاىَ اَنْتَ الْمَوْلى وَاَ نَا الْعَبْدُ وَهَلْ یَرْحَمُ الْعَبْدَ اِلا الْمَوْلى
مَوْلاىَ یا مَوْلاىَ اَنْتَ الْمالِکُ وَاَ نَا الْمَمْلُوکُ وَهَلْ یَرْحَمُ الْمَمْلُوکَ اِلا الْمالِکُ
مَوْلاىَ یا مَوْلاىَ اَنْتَ الْعَزیزُ وَاَ نَا الذَّلیلُ وَهَلْ یَرْحَمُ الذَّلیلَ اِلا الْعَزیزُ
مَوْلاىَ یا مَوْلاىَ اَنْتَ الْخالِقُ وَاَ نَا الْمَخْلُوقُ وَهَلْ یَرْحَمُ الْمَخْلُوقَ اِلا الْخالِقُ 3

مَوْلاىَ یا مَوْلاىَ اَنْتَ الْعَظیمُ وَاَ نَا الْحَقیرُ وَهَلْ یَرْحَمُ الْحَقیرَ اِلا الْعَظیمُ
مَوْلاىَ یا مَوْلاىَ اَنْتَ الْقَوِىُّ وَاَ نَا الضَّعیفُ وَهَلْ یَرْحَمُ الضَّعیفَ اِلا الْقَوِىُّ
مَوْلاىَ یا مَوْلاىَ اَنْتَ الْغَنِىُّ وَاَ نَا الْفَقیرُ وَهَلْ یَرْحَمُ الْفَقیرَ اِلا الْغَنِىُّ
مَوْلاىَ یا مَوْلاىَ اَنْتَ الْمُعْطى وَاَنَا السّاَّئِلُ وَهَلْ یَرْحَمُ السّاَّئِلَ اِلا الْمُعْطى 4

مَوْلاىَ یا مَوْلاىَ اَنْتَ الْحَىُّ وَاَ نَا الْمَیِّتُ وَهَلْ یَرْحَمُ الْمَیِّتَ اِلا الْحَىُّ
مَوْلاىَ یا مَوْلاىَ اَنْتَ الْباقى وَاَ نَا الْفانى وَ هَلْ یَرْحَمُ الْفانىَ اِلا الْباقى
مَوْلاىَ یا مَوْلاىَ اَنْتَ الدّاَّئِمُ وَاَ نَا الزّاَّئِلُ وَهَلْ یَرْحَمُ الزّآئِلَ اِلا الدَّّائِمُ
مَوْلا ىَ یا مَوْلاىَ اَنْتَ الرّازِقُ وَاَ نَا الْمَرْزُوقُ وَهَلْ یَرْحَمُ الْمَرْزُوقَ اِلا الرّازِقُ 5

مَوْلاىَ یا مَوْلاىَ اَنْتَالْجَوادُ وَاَ نَاالْبَخیلُ وَهَلْ یَرْحَمُ الْبَخیلَ اِلا الْجَوادُ
مَوْلاىَ یامَوْلاىَ اَنْتَ الْمُعافى وَاَ نَا الْمُبْتَلى وَهَلْ یَرْحَمُ الْمُبْتَلى اِلا الْمُعافى
مَوْلاىَ یا مَوْلاىَ اَنْتَ الْکَبیرُ وَاَ نَا الصَّغیرُ وَهَلْ یَرْحَمُ الصَّغیرَ اِلا الْکَبیرُ
مَوْلاىَ یا مَوْلاىَ اَنْتَ الْهادى وَاَ نَا الضّاَّلُّ وَهَلْ یَرْحَمُ الضّاَّلَّ اِلا الْهادى 6

مَوْلاىَ یامَوْلاىَ اَنْتَ الرَّحْمنُ وَاَ نَا الْمَرْحُومُ وَهَلْ یَرْحَمُ الْمَرْحُومَ اِلا الرَّحْمنُ
مَوْلاىَ یامَوْلاىَ اَنْتَ السُّلْطانُ وَاَ نَا الْمُمْتَحَنُ وَهَلْ یَرْحَمُ الْمُمْتَحَنَ اِلا السُّلْطانُ
مَوْلاىَ یا مَوْلاىَ اَنْتَ الدَّلیلُ وَاَ نَا الْمُتَحَیِّرُ وَهَلْ یَرْحَمُ الْمُتَحَیِّرَ اِلا الدَّلیلُ
مَوْلاىَ یا مَوْلاىَ اَنْتَ الْغَفُورُ وَاَ نَا الْمُذْنِبُ وَهَلْ یَرْحَمُ الْمُذْنِبَ اِلا الْغَفُورُ 7

مَوْلاىَ یا مَوْلاىَ اَنْتَ الْغالِبُ وَاَ نَا الْمَغْلُوبُ وَهَلْ یَرْحَمُ الْمَغْلُوبَ اِلا الْغالِبُ
مَوْلاىَ یا مَوْلاىَ اَنْتَ الرَّبُّ وَاَ نَا الْمَرْبُوبُ وَهَلْ یَرْحَمُ الْمَرْبُوبَ اِلا الرَّبُّ
مَوْلاىَ یا مَوْلاىَ اَنْتَ الْمُتَکَبِّرُ وَاَ نَا الْخاشِعُ وَهَلْ یَرْحَمُ الْخاشِعَ اِلا الْمُتَکَبِّرُ
مَوْلاىَ یا مَوْلاىَ اِرْحَمْنى بِرَحْمَتِکَ وَارْضَ عَنّى بِجُودِکَ وَکَرَمِکَ وَفَضْلِکَ
یا ذَاالْجُودِ وَالاِْحْسانِ وَالطَّوْلِ وَالاِْمْتِنانِ بِرَحْمَتِکَ یا اَرْحَمَ الرّاحِمینَ 8

source: janat1.ir

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 24 August 21 ، 14:12
عون نقوی

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ اسْمَعْ دُعَائِی إِذَا دَعَوْتُکَ وَ اسْمَعْ نِدَائِی إِذَا نَادَیْتُکَ وَ أَقْبِلْ عَلَیَّ إِذَا نَاجَیْتُکَ فَقَدْ هَرَبْتُ إِلَیْکَ وَ وَقَفْتُ بَیْنَ یَدَیْکَ مُسْتَکِیناً لَکَ مُتَضَرِّعاً إِلَیْکَ رَاجِیاً لِمَا لَدَیْکَ ثَوَابِی وَ تَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِی وَ تَخْبُرُ حَاجَتِی وَ تَعْرِفُ ضَمِیرِی وَ لا یَخْفَى عَلَیْکَ أَمْرُ مُنْقَلَبِی وَ مَثْوَایَ وَ مَا أُرِیدُ أَنْ أُبْدِئَ بِهِ مِنْ مَنْطِقِی وَ أَتَفَوَّهَ بِهِ مِنْ طَلِبَتِی وَ أَرْجُوهُ لِعَاقِبَتِی وَ قَدْ جَرَتْ مَقَادِیرُکَ عَلَیَّ یَا سَیِّدِی فِیمَا یَکُونُ مِنِّی إِلَى آخِرِ عُمْرِی مِنْ سَرِیرَتِی وَ عَلانِیَتِی وَ بِیَدِکَ لا بِیَدِ غَیْرِکَ زِیَادَتِی وَ نَقْصِی وَ نَفْعِی وَ ضَرِّی إِلَهِی إِنْ حَرَمْتَنِی فَمَنْ ذَا الَّذِی یَرْزُقُنِی وَ إِنْ خَذَلْتَنِی فَمَنْ ذَا الَّذِی یَنْصُرُنِی. 1

إِلَهِی أَعُوذُ بِکَ مِنْ غَضَبِکَ وَ حُلُولِ سَخَطِکَ إِلَهِی إِنْ کُنْتُ غَیْرَ مُسْتَأْهِلٍ لِرَحْمَتِکَ فَأَنْتَ أَهْلٌ أَنْ تَجُودَ عَلَیَّ بِفَضْلِ سَعَتِکَ إِلَهِی کَأَنِّی بِنَفْسِی وَاقِفَةٌ بَیْنَ یَدَیْکَ وَ قَدْ أَظَلَّهَا حُسْنُ تَوَکُّلِی عَلَیْکَ فَقُلْتَ [فَفَعَلْتَ ] مَا أَنْتَ أَهْلُهُ وَ تَغَمَّدْتَنِی بِعَفْوِکَ إِلَهِی إِنْ عَفَوْتَ فَمَنْ أَوْلَى مِنْکَ بِذَلِکَ وَ إِنْ کَانَ قَدْ دَنَا أَجَلِی وَ لَمْ یُدْنِنِی [یَدْنُ ] مِنْکَ عَمَلِی فَقَدْ جَعَلْتُ الْإِقْرَارَ بِالذَّنْبِ إِلَیْکَ وَسِیلَتِی إِلَهِی قَدْ جُرْتُ عَلَى نَفْسِی فِی النَّظَرِ لَهَا فَلَهَا الْوَیْلُ إِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَهَا إِلَهِی لَمْ یَزَلْ بِرُّکَ عَلَیَّ أَیَّامَ حَیَاتِی فَلا تَقْطَعْ بِرَّکَ عَنِّی فِی مَمَاتِی إِلَهِی کَیْفَ آیَسُ مِنْ حُسْنِ نَظَرِکَ لِی بَعْدَ مَمَاتِی وَ أَنْتَ لَمْ تُوَلِّنِی [تُولِنِی ] إِلّا الْجَمِیلَ فِی حَیَاتِی. 2

إِلَهِی تَوَلَّ مِنْ أَمْرِی مَا أَنْتَ أَهْلُهُ وَ عُدْ عَلَیَّ بِفَضْلِکَ عَلَى مُذْنِبٍ قَدْ غَمَرَهُ جَهْلُهُ إِلَهِی قَدْ سَتَرْتَ عَلَیَّ ذُنُوبا فِی الدُّنْیَا وَ أَنَا أَحْوَجُ إِلَى سَتْرِهَا عَلَیَّ مِنْکَ فِی الْأُخْرَى [إِلَهِی قَدْ أَحْسَنْتَ إِلَیَ ] إِذْ لَمْ تُظْهِرْهَا لِأَحَدٍ مِنْ عِبَادِکَ الصَّالِحِینَ فَلا تَفْضَحْنِی یَوْمَ الْقِیَامَةِ عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ إِلَهِی جُودُکَ بَسَطَ أَمَلِی وَ عَفْوُکَ أَفْضَلُ مِنْ عَمَلِی إِلَهِی فَسُرَّنِی بِلِقَائِکَ یَوْمَ تَقْضِی فِیهِ بَیْنَ عِبَادِکَ إِلَهِی اعْتِذَارِی إِلَیْکَ اعْتِذَارُ مَنْ لَمْ یَسْتَغْنِ عَنْ قَبُولِ عُذْرِهِ فَاقْبَلْ عُذْرِی یَا أَکْرَمَ مَنِ اعْتَذَرَ إِلَیْهِ الْمُسِیئُونَ . 3

إِلَهِی لا تَرُدَّ حَاجَتِی وَ لا تُخَیِّبْ طَمَعِی وَ لا تَقْطَعْ مِنْکَ رَجَائِی وَ أَمَلِی إِلَهِی لَوْ أَرَدْتَ هَوَانِی لَمْ تَهْدِنِی وَ لَوْ أَرَدْتَ فَضِیحَتِی لَمْ تُعَافِنِی إِلَهِی مَا أَظُنُّکَ تَرُدُّنِی فِی حَاجَةٍ قَدْ أَفْنَیْتُ عُمُرِی فِی طَلَبِهَا مِنْکَ إِلَهِی فَلَکَ الْحَمْدُ أَبَداً أَبَداً دَائِماً سَرْمَداً یَزِیدُ وَ لا یَبِیدُ کَمَا تُحِبُّ وَ تَرْضَى إِلَهِی إِنْ أَخَذْتَنِی بِجُرْمِی أَخَذْتُکَ بِعَفْوِکَ وَ إِنْ أَخَذْتَنِی بِذُنُوبِی أَخَذْتُکَ بِمَغْفِرَتِکَ وَ إِنْ أَدْخَلْتَنِی النَّارَ أَعْلَمْتُ أَهْلَهَا أَنِّی أُحِبُّکَ إِلَهِی إِنْ کَانَ صَغُرَ فِی جَنْبِ طَاعَتِکَ عَمَلِی فَقَدْ کَبُرَ فِی جَنْبِ رَجَائِکَ أَمَلِی إِلَهِی کَیْفَ أَنْقَلِبُ مِنْ عِنْدِکَ بِالْخَیْبَةِ مَحْرُوماً وَ قَدْ کَانَ حُسْنُ ظَنِّی بِجُودِکَ أَنْ تَقْلِبَنِی بِالنَّجَاةِ مَرْحُوما إِلَهِی وَ قَدْ أَفْنَیْتُ عُمُرِی فِی شِرَّةِ السَّهْوِ عَنْکَ وَ أَبْلَیْتُ شَبَابِی فِی سَکْرَةِ التَّبَاعُدِ مِنْکَ إِلَهِی فَلَمْ أَسْتَیْقِظْ أَیَّامَ اغْتِرَارِی بِکَ وَ رُکُونِی إِلَى سَبِیلِ سَخَطِکَ. 4

إِلَهِی وَ أَنَا عَبْدُکَ وَ ابْنُ عَبْدِکَ قَائِمٌ بَیْنَ یَدَیْکَ مُتَوَسِّلٌ بِکَرَمِکَ إِلَیْکَ إِلَهِی أَنَا عَبْدٌ أَتَنَصَّلُ إِلَیْکَ مِمَّا کُنْتُ أُوَاجِهُکَ بِهِ مِنْ قِلَّةِ اسْتِحْیَائِی مِنْ نَظَرِکَ وَ أَطْلُبُ الْعَفْوَ مِنْکَ إِذِ الْعَفْوُ نَعْتٌ لِکَرَمِکَ إِلَهِی لَمْ یَکُنْ لِی حَوْلٌ فَأَنْتَقِلَ بِهِ عَنْ مَعْصِیَتِکَ إِلا فِی وَقْتٍ أَیْقَظْتَنِی لِمَحَبَّتِکَ وَ کَمَا أَرَدْتَ أَنْ أَکُونَ کُنْتُ فَشَکَرْتُکَ بِإِدْخَالِی فِی کَرَمِکَ وَ لِتَطْهِیرِ قَلْبِی مِنْ أَوْسَاخِ الْغَفْلَةِ عَنْکَ إِلَهِی انْظُرْ إِلَیَّ نَظَرَ مَنْ نَادَیْتَهُ فَأَجَابَکَ وَ اسْتَعْمَلْتَهُ بِمَعُونَتِکَ فَأَطَاعَکَ یَا قَرِیباً لا یَبْعُدُ عَنِ الْمُغْتَرِّ بِهِ وَ یَا جَوَاداً لا یَبْخَلُ عَمَّنْ رَجَا ثَوَابَهُ إِلَهِی هَبْ لِی قَلْباً یُدْنِیهِ مِنْکَ شَوْقُهُ وَ لِسَاناً یُرْفَعُ إِلَیْکَ صِدْقُهُ وَ نَظَراً یُقَرِّبُهُ مِنْکَ حَقُّهُ إِلَهِی إِنَّ مَنْ تَعَرَّفَ بِکَ غَیْرُ مَجْهُولٍ وَ مَنْ لاذَ بِکَ غَیْرُ مَخْذُولٍ وَ مَنْ أَقْبَلْتَ عَلَیْهِ غَیْرُ مَمْلُوکٍ [مَمْلُولٍ ] ، 5

إِلَهِی إِنَّ مَنِ انْتَهَجَ بِکَ لَمُسْتَنِیرٌ وَ إِنَّ مَنِ اعْتَصَمَ بِکَ لَمُسْتَجِیرٌ وَ قَدْ لُذْتُ بِکَ یَا إِلَهِی فَلا تُخَیِّبْ ظَنِّی مِنْ رَحْمَتِکَ وَ لا تَحْجُبْنِی عَنْ رَأْفَتِکَ إِلَهِی أَقِمْنِی فِی أَهْلِ وَلایَتِکَ مُقَامَ مَنْ رَجَا الزِّیَادَةَ مِنْ مَحَبَّتِکَ إِلَهِی وَ أَلْهِمْنِی وَلَهاً بِذِکْرِکَ إِلَى ذِکْرِکَ وَ هِمَّتِی فِی رَوْحِ نَجَاحِ أَسْمَائِکَ وَ مَحَلِّ قُدْسِکَ إِلَهِی بِکَ عَلَیْکَ إِلا أَلْحَقْتَنِی بِمَحَلِّ أَهْلِ طَاعَتِکَ وَ الْمَثْوَى الصَّالِحِ مِنْ مَرْضَاتِکَ فَإِنِّی لا أَقْدِرُ لِنَفْسِی دَفْعاً وَ لا أَمْلِکُ لَهَا نَفْعاً إِلَهِی أَنَا عَبْدُکَ الضَّعِیفُ الْمُذْنِبُ وَ مَمْلُوکُکَ الْمُنِیبُ [الْمَعِیبُ ] فَلا تَجْعَلْنِی مِمَّنْ صَرَفْتَ عَنْهُ وَجْهَکَ وَ حَجَبَهُ سَهْوُهُ عَنْ عَفْوِکَ إِلَهِی هَبْ لِی کَمَالَ الأِنْقِطَاعِ إِلَیْکَ وَ أَنِرْ أَبْصَارَ قُلُوبِنَا بِضِیَاءِ نَظَرِهَا إِلَیْکَ حَتَّى تَخْرِقَ أَبْصَارُ الْقُلُوبِ حُجُبَ النُّورِ فَتَصِلَ إِلَى مَعْدِنِ الْعَظَمَةِ وَ تَصِیرَ أَرْوَاحُنَا مُعَلَّقَةً بِعِزِّ قُدْسِکَ إِلَهِی وَ اجْعَلْنِی مِمَّنْ نَادَیْتَهُ فَأَجَابَکَ وَ لاحَظْتَهُ فَصَعِقَ لِجَلالِکَ فَنَاجَیْتَهُ سِرّا وَ عَمِلَ لَکَ جَهْرا. 6

إِلَهِی لَمْ أُسَلِّطْ عَلَى حُسْنِ ظَنِّی قُنُوطَ الْإِیَاسِ وَ لا انْقَطَعَ رَجَائِی مِنْ جَمِیلِ کَرَمِکَ إِلَهِی إِنْ کَانَتِ الْخَطَایَا قَدْ أَسْقَطَتْنِی لَدَیْکَ فَاصْفَحْ عَنِّی بِحُسْنِ تَوَکُّلِی عَلَیْکَ إِلَهِی إِنْ حَطَّتْنِی الذُّنُوبُ مِنْ مَکَارِمِ لُطْفِکَ فَقَدْ نَبَّهَنِی الْیَقِینُ إِلَى کَرَمِ عَطْفِکَ إِلَهِی إِنْ أَنَامَتْنِی الْغَفْلَةُ عَنِ الاسْتِعْدَادِ لِلِقَائِکَ فَقَدْ نَبَّهَتْنِی الْمَعْرِفَةُ بِکَرَمِ آلائِکَ إِلَهِی إِنْ دَعَانِی إِلَى النَّارِ عَظِیمُ عِقَابِکَ فَقَدْ دَعَانِی إِلَى الْجَنَّةِ جَزِیلُ ثَوَابِکَ إِلَهِی فَلَکَ أَسْأَلُ وَ إِلَیْکَ أَبْتَهِلُ وَ أَرْغَبُ وَ أَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ أَنْ تَجْعَلَنِی مِمَّنْ یُدِیمُ ذِکْرَکَ وَ لا یَنْقُضُ عَهْدَکَ وَ لا یَغْفُلُ عَنْ شُکْرِکَ وَ لا یَسْتَخِفُّ بِأَمْرِکَ إِلَهِی وَ أَلْحِقْنِی بِنُورِ عِزِّکَ الْأَبْهَجِ فَأَکُونَ لَکَ عَارِفا وَ عَنْ سِوَاکَ مُنْحَرِفاً وَ مِنْکَ خَائِفاً مُرَاقِباً یَا ذَا الْجَلالِ وَ الْإِکْرَامِ وَ صَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ رَسُولِهِ وَ آلِهِ الطَّاهِرِینَ وَ سَلَّمَ تَسْلِیما کَثِیرا. 7

source: janat1.ir

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 24 August 21 ، 14:06
عون نقوی

کربلا میں جہاں پر عظیم الشان کردار موجود ہیں وہیں پر دوسری طرف پست فطرت کردار بھی موجود ہیں جنکی شخصیت کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ ہم آج کے زمانے میں ان شخصیات کے مالک افراد کو پہچان سکیں اور ان سے اپنی راہ جدا کریں، رہبر معظم فرماتے ہیں کہ کربلا ایک درسگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ عبرت گاہ بھی ہے۔ انسان ان عبرتوں سے درس لے اور خود کو ان شخصیات کے ساتھ مقائسہ کرے، کربلا کے انہیں منفی کرداروں میں سے ایک کردار شبث بن ربعی کا ہے، یاد رہے شبث ایک شخص نہیں بلکہ ایک کردار و ایک شخصیت کا نام ہے جو ہر دور میں پائی جاتی ہے۔

اس کا پورا نام ابو عبدالقدوس شبث بن ربعی مذحجی ہے، زندگی کے ابتدائی ایام دوران جاہلیت میں گزارے اور بعد میں مسلمان ہوگیا، کربلا میں عمر بن سعد کی فوج میں تھا اور امام حسین علیہ السلام کے خلاف لڑا۔ رحلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد مرتد ہوا اور سجاح نامی جھوٹے نبی کا پیرو بنا، اسکا ایک عرصے تک ساتھ دیا، جھوٹے نبی کا مؤذن بنا رہا لیکن بعد میں توبہ کرکے دوبارہ مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہوگیا۔ اس شخص کا کردار پڑھنا اور سمجھنا اس لیے بھی بہت اہم ہے کہ اس نے ذاتی مفاد کی خاطر متعدد مرتبہ مختلف گروہوں سے اپنی وفاداری کی قسم کھائی، جہاں پر بھی اقتدار، منصب و پیسہ ملنے کے چانس ہوتے وہاں پہنچ جاتا، امیرالمومنین علیہ السلام کی ظاہری خلافت کے بعد امام علیہ السلام کے ناصران کے ساتھ پیوست ہوا۔ واقعہ جمل میں امام علی علیہ السلام سے مخالفت کی اور ابو موسیٰ اشعری کے کہنے پر کوفے والوں کو بھی امام علیہ السلام کا ساتھ دینے سے روکتا رہا۔

شبث جنگ صفین میں پھر سے امام علی علیہ السلام کی صفوں میں شامل ہوگیا اور امام علیہ السلام کی جانب سے بنی حنظلہ کا فرماندار منتخب ہوا، جنگ صفین کے شروع ہونے سے پہلے امام علیہ السلام کی جانب سے ایک وفد معاویہ کی جانب بھیجا گیا جس کا کام معاویہ کو کتاب خدا کی طرف دعوت دینا تھا، شبث اس وفد کا رکن تھا، صفین میں عمرو بن عاص کے مکر و حیلے کے بعد جب اس نے قرآن کریم کو نیزوں پر اٹھایا تو شبث ان لوگوں میں سے ہوگیا جنہوں نے امام علیہ السلام پر زور ڈالا کہ فورا جنگ بند کی جائے اور فیصلہ حکمیت کے سپرد کردیا جائے۔ حکمیت کے بعد شبث اپنے چند کوفی ساتھیوں کے ہمراہ امام علی علیہ السلام کی فوج کو ترک کردیتا ہے اور خوارج میں شامل ہوجاتا ہے، خوارج نے شبث کو اپنے بزرگوں میں سے قرار دیا، لیکن جب اس نے دیکھا کہ یہ یک مشت جاہل اور خشک مغز افراد ہیں ان کے ساتھ رہ کر کچھ بھی نصیب نہیں ہونے والا دوبارہ خوارج کو بھی ترک کیا اور امام علی علیہ السلام کی فوج میں واپس آگیا، جنگ نہروان یعنی خوارج کے خلاف جنگ میں امام علی علیہ السلام نے اسے لشکر کوفہ کے میسرہ کی فرماندہی عطا کی۔

اس نے کبھی بھی امام علیہ السلام کا ساتھ اس بنا پر نہیں دیا تھا کہ اسے امام کی معرفت ہو گئی تھی یا یہ امام علی علیہ السلام کو امام حق منصوص من اللہ جانتا ہو، اس لیے شہادت امیرالمومنین علیہ السلام کے فورا بعد یہ شخص امیر شام سے منسلک ہوجاتا ہے اور اسکے سخت حامیوں میں سے قرار پاتا  ہے، لیکن جیسا کہ اسکی طبیعت اور شیطانی فطرت تھی اس نے امیر شام کی وفات کے بعد کوفہ کی شیعہ جماعتوں کے ساتھ تحرکات میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ یہ اس تحریک میں پیش پیش تھا جس میں کوفہ کے شیعوں نے امام حسین علیہ السلام کو کوفہ دعوت دینے کے لیے خطوط لکھے، اس نے نہ صرف امام حسین علیہ السلام کو خط لکھا بلکہ ان کو دعوت دی اور اطاعت کی قسم کھائی، امام حسین علیہ السلام کو خط لکھتا ہے جس میں کہتا ہے: " باغ ہرے بھرے ہوگئے ہیں، میوہ تیار ہو چکا ہے، نہروں کا پانی بھر چکا ہے لہذا اگر آپ اس بات کی طرف مائل ہوں کہ اس فوج کے ساتھ پیوست ہو جائیں جو آپ کے لیے آمادہ ہوچکی ہے تو جلدی کریں

کوفہ میں جب تک مسلم بن عقیل علیہ السلام کے تحرکات جاری تھے یہ شخص شیعوں کے درمیان اور بہت متحرک تھا لیکن جیسے ہی ابن زیاد کوفہ میں داخل ہوتا ہے یہ شخص ابن زیاد کے ساتھ پیوست ہوجاتا ہے اور اسکے کہنے پر کوفہ کے اشراف کے ساتھ مل کر مسلم بن عقیل علیہ السلام کے ساتھیوں کو منتشر کرنے اور انکو ڈرانے دھمکانے میں کردار ادا کرتا ہے۔ مسلم ابن عقیل علیہ السلام کی شہادت کے بعد جب کوفہ میں خبریں پہنچتی ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کربلا کی طرف تشریف لے گئے ہیں تو ابن زیاد نے کوفہ سے فوجیں نکالنا شروع کیں، شبث اس خوف سے کہ کہیں مجھے بھی امام علیہ السلام کے خلاف لڑنا نا پڑجاۓ بیماری کا بہانہ کرکے گوشہ نشین ہوجاتا ہے، ابن زیاد کو اس کے مکر کا پتہ چل جاتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ خود کو مریض مت ظاہر کرو اگر ہمارے وفادار ہو تو جلد عمر سعد کے ساتھ ملحق ہو جاؤ، شبث بھی ابن زیاد کے کہنے پر ایک ہزار پیادہ نظام کا لشکر لے کر کربلا کی طرف روانہ ہوجاتا ہے اور ابن سعد کے ساتھ ملحق ہوتا ہے۔

شبث کربلا میں ابن سعد کی جانب سے یزیدی فوج کے پیادہ سواروں کا فرماندہ مقرر ہوتا ہے، چونکہ شبث ان افراد میں سے تھا جنہوں نے کوفہ سے امام علیہ السلام کو خط لکھ کر دعوت دی تھی اور اپنی وفاداری کا اظہار کیا تھا اس لیے امام علیہ السلام کے سامنے آنے سے کترا رہا تھا، صبح عاشور ابن سعد نے حملے کا حکم دیا عزرہ بن قیس یزیدی لشکر کی جانب سے چند گھڑ سوار لے کر آگے بڑھا لیکن لشکر امام علیہ السلام کی جانب سے اس حملے کا شدید جواب دیا گیا مجبور ہو کر بن قیس نے ابن سعد سے مدد طلب کی، بن سعد نے شبث کو بھیجنا چاہا لیکن شبث نے جانے سے امتناع کیا۔ حتی اس نے ابن سعد کے بعض قبیح اور گھٹیا کاموں کی غیر علنی صورت میں مخالفت کی، مثلا مسلم بن عوسجہ کے مارے جانے اور خیام حسینی کے جلاۓ جانے کی شمر کی دھمکی کی مخالفت کی۔ بعض روایات کے مطابق عصر عاشور امام حسین علیہ السلام نے اپنے خطبے میں اشراف کوفہ کے خطوط کا ذکر کیا جن میں سے ایک خط شبث بن ربعی کا تھا، شبث نے جب اپنی رسوائی ہوتے دیکھی تو اس خط کا ہی منکر ہوگیا۔

یزید کے جہنم واصل ہونے کے بعد اس نے اپنی وفاداری خاندان بنو امیہ سے توڑ کر عبداللہ بن زبیر سے جوڑ لی، عبداللہ بن زبیر کے گماشتے عبداللہ بن مطیع سے کوفہ میں بیعت کی۔ مختار ثقفی کے قیام کے بعد ابن مطیع کی حکومت کو بچانے کیلئے اس نے مختار کے خلاف جنگ لڑی لیکن شکست کھائی، مجبور ہو کر قصر کوفہ میں چھپ گیا۔ قیام مختار کی کامیابی کے بعد اور مختار کے انتقام کے ڈر سے شبث اور اس طرح کے بقیہ فراری بغاوت کی سازشیں کررہے تھے، لیکن انکی کوئی بھی بغاوت و لڑائی کارگزار ثابت نہ ہوئی مجبور ہو کر بصرہ کی طرف فرار کیا اور مصعب بن زبیر سے بصرہ میں ملحق ہوا۔  شبث نے آل زبیر کا ساتھ دیا یہاں تک کہ کوفہ میں قیام مختار کو زبیریوں کے ہاتھوں ناکامی حاصل ہوئی۔ آل زبیر کے ساتھ وفاداری بھی زیادہ دیر تک نہ ٹک سکی آخر میں آل مروان یعنی بنو امیہ کی دوسری لڑی کے ساتھ پیوست ہوا۔ شبث بن ربعی عبدالملک بن مروان کے ساتھ ملحق ہوا، بعض تاریخی منابع کے مطابق یہ شخص 70 ہجری میں مرا۔ 

 

منابع:
١۔ ابن سعد، محمد، الطبقات الکبری، ج٦، ص٢٤١۔
٢۔ طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، ج١١، ص٦٦٥۔
٣۔ زرکلی، خیرالدین، الإعلام، ج٣، ص١٥٤۔
٤۔ مسکویہ، ابو علی، تجارب الأمم، ج٢، ص١٦٨۔
٥۔ مسعودی، علی ابن الحسین، التنبیہ والإشراف، ص٢٤٨۔
٦۔ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الإشراف، ج١٢، ص١٦٢۔
٧۔ ابن اثیر، علی بن ابی الکرم، الکامل فی التاریخ، ج٢، ص٢١١۔
٨۔ خلیفہ بن خیاط، تاریخ خلیفہ بن خیاط، ص١١۔
٩۔ دینوری، ابو حنیفہ احمد بن داوود، الأخبار الطوال، ص١٧٣۔
١٠۔ الطوال، تحقیق عبدالمنعم، ص٢١٠۔
١١۔ شیخ مفید، محمد بن نعمان، الإرشاد، ج٢، ص٥٢
۔

تحریر:  عون نقوی

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 24 August 21 ، 13:50
عون نقوی