بصیرت اخبار

وَ ذٰلِکَ یَوْمٌ یَّجْمَعُ اللهُ فِیْهِ الْاَوَّلِیْنَ وَ الْاٰخِرِیْنَ لِنِقَاشِ الْحِسَابِ وَ جَزَآءِ الْاَعْمَالِ، خُضُوْعًا، قِیَامًا، قَدْ اَلْجَمَهُمُ الْعَرَقُ، وَ رَجَفَتْ بِهِمُ الْاَرْضُ، فَاَحْسَنُهُمْ حَالًا مَّنْ وَّجَدَ لِقَدَمَیْهِ مَوْضِعًا، وَ لِنَفْسِهٖ مُتَّسَعًا.

وہ ایسا دن ہو گا کہ اللہ حساب کی چھان بین اور عملوں کی جزا کیلئے سب اَگلے پچھلوں کو جمع کرے گا۔ وہ خضوع کی حالت میں اس کے سامنے کھڑے ہوں گے، پسینہ منہ تک پہنچ کر ان کے منہ میں لگام ڈال دے گا، زمین ان لوگوں سمیت لرزتی اور تھرتھراتی ہو گی۔ اس وقت سب سے بڑا خوش حال وہ ہو گا جسے اپنے دونوں قدم ٹکانے کی جگہ اور سانس لینے کو کھلی فضا مل جائے۔

[مِنْهُ]

[اسی خطبے کا ایک جز یہ ہے]

فِتَنٌ کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ، لَا تَقُوْمُ لَهَا قَآئِمَةٌ، وَ لَا تُرَدُّ لَهَا رَایَةٌ، تَاْتِیْکُمْ مَزْمُوْمَةً مَّرْحُوْلَةً: یَحْفِزُهَا قَآئِدُهَا، وَ یَجْهَدُهَا رَاکِبُهَا، اَهْلُهَا قَوْمٌ شَدِیْدٌ کَلَبُهُمْ، قَلِیْلٌ سَلَبُهُمْ، یُجَاهِدُهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللهِ قَوْمٌ اَذِلَّةٌ عِنْدَ الْمُتَکَبِّرِیْنَ، فِی الْاَرْضِ مَجْهُوْلُوْنَ، وَ فِی السَّمَآءِ مَعْرُوْفُوْنَ.

وہ ایسے فتنے ہوں گے جیسے اندھیری رات کے ٹکڑے۔ ان کے مقابلے کیلئے (گھوڑوں کے) پیر جم نہ سکیں گے اور نہ ان کے جھنڈے پلٹائے جا سکیں گے۔ وہ تمہارے پاس اس طرح آئیں گے کہ ان کی لگامیں چڑھی ہوں گی اور ان پر پالان کسے ہوں گے۔ ان کا پیشرو انہیں تیزی سے ہنکائے گا اور سوار ہونے والا انہیں ہلکان کر دے گا۔ وہ لوگ اس قوم سے ہیں جن کے حملے سخت ہوتے ہیں اور لوٹ کھسوٹ کم۔ ان سے وہ قوم فی سبیل اللہ جہاد کرے گی جو متکبروں کے نزدیک پست اور ذلیل، زمین میں گمنام اور آسمان میں جانی پہچانی ہوئی ہو گی۔

فَوَیْلٌ لَّکِ یَا بَصْرَةُ عِنْدَ ذٰلِکَ، مِنْ جَیْشٍ مِّنْ نِّقَمِ اللهِ! لَا رَهَجَ لَهٗ، وَ لَا حَسَّ، وَ سَیُبْتَلٰۤی اَهْلُکِ بِالْمَوْتِ الْاَحْمَرِ، وَ الْجُوْعِ الْاَغْبَرِ!.

اے بصرہ ! تیری حالت پر افسوس ہے کہ جب تجھ پر اللہ کے عذاب کے لشکر ٹوٹ پڑیں گے، جس میں نہ غبار اڑے گا اور نہ شور و غوغا ہو گا اور تیرے بسنے والے قتل اور سخت بھوک میں مبتلا ہوں گے۔


balagha.org

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 05 February 23 ، 19:28
عون نقوی

اَلْاَوَّلُ قَبْلَ کُلِّ اَوَّلٍ، وَ الْاٰخِرُ بَعْدَ کُلِّ اٰخِرٍ، بِاَوَّلِیَّتِهٖ وَجَبَ اَنْ لَّاۤ اَوَّلَ لَهٗ، وَ بِاٰخِرِیَّتِهٖ وَجَبَ اَنْ لَّاۤ اٰخِرَ لَهٗ.

وہ ہر اوّل سے پہلے اوّل ہے اور ہر آخر کے بعد آخر ہے۔ اس کی اولیت کے سبب سے واجب ہے کہ اس سے پہلے کوئی نہ ہو اور اس کے آخر ہونے کی وجہ سے ضروری ہے کہ اس کے بعد کوئی نہ ہو۔

وَ اَشْهَدُ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ شَهَادَةً یُّوَافِقُ فِیْهَا السِّرُّ الْاِعْلَانَ، وَ الْقَلْبُ اللِّسَانَ.

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، ایسی گواہی جس میں ظاہر و باطن یکساں اور دل و زبان ہمنوا ہیں۔

اَیُّهَا النَّاسُ! ﴿لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شِقَاقِیْ﴾، وَ لَا یَسْتَهْوِیَنَّکُمْ عِصْیَانِیْ، وَ لَا تَتَرَامَوْا بِالْاَبْصَارِ عِنْدَ مَا تَسْمَعُوْنَهٗ مِنِّیْ.

اے لوگو! تم میری مخالفت کے جرم میں مبتلا نہ ہو اور میری نافرمانی کر کے حیران و پریشان نہ ہو۔ میری باتیں سنتے وقت ایک دوسرے کی طرف آنکھوں کے اشارے نہ کرو۔

فَوَ الَّذِیْ فَلَقَ الْحَبَّةَ وَ بَرَاَ النَّسَمَةَ! اِنَّ الَّذِیْۤ اُنَبِّئُکُمْ بِهٖ عَنِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ ﷺ، مَا کَذَبَ الْمُبَلِّغُ، وَ لَا جَهِلَ السَّامِعُ.

اس ذات کی قسم جس نے دانہ کو شگافتہ کیا اور ذی روح کو پیدا کیا ہے! میں جو خبر تمہیں دیتا ہوں وہ نبی ﷺ کی طرف سے پہنچی ہوئی ہے۔ نہ خبر دینے والے (رسولؐ) نے جھوٹ کہا، نہ سننے والا جاہل تھا۔

لَکَاَنِّیْۤ اَنْظُرُ اِلٰی ضِلِّیْلٍ قَدْ نَعَقَ بِالشَّامِ، وَ فَحَصَ بِرَایَاتِهٖ فِیْ ضَوَاحِیْ کُوْفَانَ. فَاِذَا فَغَرَتْ فَاغِرَتُهٗ، وَ اشْتَدَّتْ شَکِیْمَتُهٗ، وَ ثَقُلَتْ فِی الْاَرْضِ وَطْاَتُهٗ، عَضَّتِ الْفِتْنَةُ اَبْنَآئَهَا بِاَنْیَابِهَا، وَ مَاجَتِ الْحَرْبُ بِاَمْوَاجِهَا، وَ بَدَا مِنَ الْاَیَّامِ کُلُوْحُهَا، وَ مِنَ اللَّیَالِیْ کُدُوْحُهَا.

(لو سنو!) میں ایک سخت گمراہیوں میں پڑے ہوئے شخص کو گویا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ وہ شام میں کھڑا ہوا للکار رہا ہے اور اس نے اپنے جھنڈے کوفہ کے آس پاس کھلے میدانوں میں گاڑ دیئے ہیں۔ چنانچہ جب اس کا منہ (پھاڑ کھانے کو) کھل گیا اور اس کی لگام کا دہانہ مضبوط ہو گیا اور زمین میں اس کی پامالیاں سخت سے سخت ہو گئیں تو فتنوں نے اپنے دانتوں سے دنیا والوں کو کاٹنا شروع کر دیا اور جنگ کا دریا تھپیڑے مارنے لگا اور دنوں کی سختی سامنے آ گئی اور راتوں کی تکلیف شدت اختیار کر گئی۔

فَاِذَاۤ اَیْنَعَ زَرْعُهٗ، وَ قَامَ عَلٰی یَنْعِهٖ، وَ هَدَرَتْ شَقَاشِقُهٗ، وَ بَرَقَتْ بَوَارِقُهٗ، عُقِدَتْ رَایَاتُ الْفِتَنِ الْمُعْضِلَةِ، وَ اَقْبَلْنَ کَاللَّیْلِ الْمُظْلِمِ، وَ الْبَحْرِ الْمُلْتَطِمِ.

بس ادھر اس کی کھیتی پختہ ہوئی اور فصل تیار ہوئی اور اس کی سر مستیاں جوش دکھانے لگیں اور تلواریں چمکنے لگیں، اُدھر سخت فتنہ و شر کے جھنڈے گڑ گئے اور اندھیری رات اور متلاطم دریا کی طرح آگے بڑھ آئے۔

هٰذَا، وَ کَمْ یَخْرِقُ الْکُوْفَةَ مِنْ قَاصِفٍ، وَ یَمُرُّ عَلَیْهَا مِنْ عَاصِفٍ! وَ عَنْ قَلِیْلٍ تَلْتَفُّ الْقُرُوْنُ بِالْقُرُوْنِ، وَ یُحْصَدُ الْقَآئِمُ، وَ یُحْطَمُ الْمَحْصُوْدُ!

اس کے علاوہ اور کتنے ہی تیز جھکڑ کوفہ کو اُکھیڑ ڈالیں گے اور کتنی ہی سخت آندھیاں اس پر آئیں گی اور عنقریب جماعتیں جماعتوں سے گتھ جائیں گی اور کھڑی کھیتیوں کو کاٹ دیا جائے گا اور کٹے ہوئے حاصلوں کو توڑ پھوڑ دیا جائے گا۔


balagha.org

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 05 February 23 ، 19:26
عون نقوی

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ النَّاشِرِ فِی الْخَلْقِ فَضْلَهٗ، وَ الْبَاسِطِ فِیْھِمْ بِالْجُوْدِ یَدَهٗ. نَحْمَدُهٗ فِیْ جَمِیْعِ اُمُوْرِهٖ، وَ نَسْتَعِیْنُهٗ عَلٰی رِعَایَةِ حُقُوْقِهٖ،

اس اللہ کیلئے حمد و ثنا ہے جو مخلوقات میں اپنا (دامن) فضل پھیلائے ہوئے اور اپنا دست کرم بڑھائے ہوئے ہے۔ ہم تمام امور میں اس کی حمد کرتے ہیں اور اس کے حقوق کا پاس و لحاظ رکھنے میں اس سے مدد مانگتے ہیں۔

وَ نَشْهَدُ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ غَیْرُهٗ، وَ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَ رَسُوْلُهٗ، اَرْسَلَهٗ بِاَمْرِهٖ صَادِعًا، وَ بِذِکْرِهٖ نَاطِقًا، فَاَدّٰۤی اَمِیْنًا، وَ مَضٰی رَشِیْدًا، وَ خَلَّفَ فِیْنَا رَایَةَ الْحَقِّ، مَنْ تَقَدَّمَهَا مَرَقَ، وَ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا زَهَقَ، وَ مَنْ لَّزِمَهَا لَحِقَ، دَلِیْلُهَا مَکِیْثُ الْکَلَامِ، بَطِیْٓءُ الْقِیَامِ، سَرِیْعٌ اِذَا قَامَ.

اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے عبد اور رسول ہیں جنہیں اللہ نے اپنا امر واضح کر کے سنانے اور اپنا ذکر زبان پر لانے کیلئے بھیجا۔ آپؐ نے امانتداری کے ساتھ اسے پہنچایا اور راہ راست پر برقرار رہتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے اور ہم میں حق کا وہ پرچم چھوڑ گئے کہ جو اس سے آگے بڑھے گا وہ (دین سے) نکل جائے گا اور جو پیچھے رہ جائے گا وہ مٹ جائے گا اور جو اس سے چمٹا رہے گا وہ حق کے ساتھ رہے گا۔ اس پرچم کی طرف راہنمائی کرنے والا وہ ہے جو بات کہنے میں جلد بازی نہیں کرتا اور (پوری طرح غور کرنے کیلئے) اپنے اقدام میں تاخیر کرتا ہے اور جب کسی امر کو لے کر کھڑا ہو جائے تو پھر تیز گام ہے۔

فَاِذَاۤ اَنْتُمْ اَلَنْتُمْ لَهٗ رِقَابَکُمْ، وَ اَشَرْتُمْ اِلَیْهِ بِاَصَابِعِکُمْ، جَآئَهُ الْمَوْتُ فَذَهَبَ بِهٖ، فَلَبِثْتُمْ بَعْدَهٗ مَا شَآءَ اللهُ حَتّٰی یُطْلِعَ اللهُ لَکُمْ مَنْ یَّجْمَعُکُمْ وَ یَضُمُّ نَشْرَکُمْ.

جب تم اس کے سامنے گردنیں خم کر دو گے اور (اسکی عظمت و جلال کے پیش نظر) اس کی طرف انگلیوں کے اشارے کرنے لگو گے تو اسے موت آ جائے گی اور اسے لے جائے گی اور پھر جب تک اللہ چاہے تم (انتظار میں) ٹھہرے رہو گے، یہاں تک کہ اللہ اس شخص کو ظاہر کرے جو تمہیں ایک جگہ پر جمع کرے اور تمہاری شیرازہ بندی کرے۔

فَلَا تَطْمَعُوْا فِیْ غَیْرِ مُقْبِلٍ، وَ لَا تَیْاَسُوْا مِنْ مُّدْبِرٍ، فَاِنَّ الْمُدْبِرَ عَسٰی اَنْ تَزِلَّ اِحْدٰی قَآئِمَتَیْهِ، وَ تَثْبُتَ الْاُخْرٰی، وَ تَرْجِعَا حَتّٰی تَثْبُتَا جَمِیْعًا.

جو کچھ ہونے والا نہیں ہے اس کی لالچ نہ کرو اور بہت ممکن کہ برگشتہ صورت حال کا ایک قدم اُکھڑ گیا ہو اور دوسرا قدم جما ہوا ہو اور پھر کوئی ایسی صورت ہو کہ دونوں قدم جم ہی جائیں۔

اَلَا اِنَّ مَثَلَ اٰلِ مُحَمَّدٍ ﷺ، کَمَثَلِ نُجُوْمِ السَّمَآءِ: اِذَا خَوٰی نَجْمٌ طَلَعَ نَجْمٌ، فَکَاَنَّکُمْ قَدْ تَکَامَلَتْ مِنَ اللهِ فِیْکُمُ الصَّنَآئِعُ، وَ اَرَاکُمْ مَا کُنْتُمْ تَاْمُلُوْنَ.

تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ آلِ محمد علیہم السلام آسمان کے ستاروں کے مانند ہیں، جب ایک ڈوبتا ہے تو دوسرا اُبھر آتا ہے۔ گویا تم پر اللہ کی نعمتیں مکمل ہو گئی ہیں اور جس کی تم آس لگائے بیٹھے تھے وہ اللہ نے تمہیں دکھا دیا ہے۔


مطلب یہ ہے کہ اگر سر دست تمہارے توقعات پورے نہیں ہو رہے تو مایوس نہ ہو جاؤ، کیونکہ ممکن ہے کہ صورت حال میں تبدیلی ہو اور اصلاح میں جو رکاوٹیں ہیں وہ دور ہو جائیں اور معاملات تمہارے حسبِ دلخواہ طے پا جائیں۔


balagha.org

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 05 February 23 ، 19:23
عون نقوی

نَحْمَدُهٗ عَلٰی مَا کَانَ، وَ نَسْتَعِیْنُهٗ مِنْ اَمْرِنَا عَلٰی مَا یَکُوْنُ، وَ نَسْئَلُهُ الْمُعَافَاةَ فِی الْاَدْیَانِ، کَمَا نَسَئَلُهُ الْمُعَافَاةَ فِی الْاَبْدَانِ.

جو ہو چکا اس پر ہم اللہ کی حمد کرتے ہیں اور جو ہو گا اس کے مقابلہ میں اس سے مدد چاہتے ہیں۔ جس طرح اس سے جسموں کی صحت کا سوال کرتے ہیں اسی طرح دین و ایمان کی سلامتی کے طلبگار ہیں۔

عِبادَ اللهِ! اُوْصِیْکُمْ بِالرَّفْضِ لِهٰذِهِ الدُّنْیَا التَّارِکَةِ لَکُمْ وَ اِنْ لَّمْ تُحِبُّوْا تَرْکَهَا، وَ الْمُبْلِیَةِ لِاَجْسَامِکُمْ وَ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ تَجْدِیْدَهَا، فَاِنَّمَا مَثَلُکُمْ وَ مَثَلُهَا کَسَفْرٍ سَلَکُوْا سَبِیْلًا فَکَاَنَّهُمْ قَدْ قَطَعُوْهُ، وَ اَمُّوْا عَلَمًا فَکَاَنَّهُمْ قَدْ بَلَغُوْهُ، وَ کَمْ عَسَی الْمُجْرِیْۤ اِلَی الْغَایَةِ اَنْ یَّجْرِیَ اِلَیْهَا حَتّٰی یَبْلُغَهَا! وَ مَا عَسٰۤی اَنْ یَّکُوْنَ بَقَآءُ مَنْ لَّهٗ یَوْمٌ لَّا یَعْدُوْهُ، وَ طَالِبٌ حَثِیْثٌ یَحْدُوْهٗ فِی الدُّنُیَا حَتّٰی یُفَارِقَهَا!.

اے اللہ کے بندو! میں تمہیں اس دنیا کے چھوڑنے کی وصیت کرتا ہوں جو تمہیں چھوڑ دینے والی ہے، حالانکہ تم اسے چھوڑنا پسند نہیں کرتے اور وہ تمہارے جسموں کو کہنہ و بوسیدہ بنانے والی ہے حالانکہ تم اسے تر و تازہ رکھنے ہی کی کوشش کرتے ہو۔ تمہاری اور اس دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے چند مسافر کسی راہ پر چلیں اور چلتے ہی منزل طے کر لیں اور کسی بلند نشان کا قصد کریں اور فوراً وہاں تک پہنچ جائیں۔ کتنا ہی تھوڑا وقفہ ہے اس (گھوڑا) دوڑانے والے کا کہ جو اسے دوڑا کر انتہا کی منزل تک پہنچ جائے اور اس شخص کی بقا ہی کیا ہے کہ جس کیلئے ایک ایسا دن ہو کہ جس سے وہ آگے نہیں بڑھ سکتا اور دنیا میں ایک تیز گام طلب کرنیوالا اسے ہنکا رہا ہو یہاں تک کہ وہ اس دنیا کو چھوڑ جائے۔

فَلَاتَنَافَسُوْا فِیْ عِزِّ الدُّنْیَا وَفَخْرِهَا، وَلَا تَعْجَبُوْا بِزِیْنَتِهَا وَ نَعِیْمِهَا، وَلَا تَجْزَعُوْا مِنْ ضَرَّآئِهَا وَ بُؤْسِهَا، فَاِنَّ عِزَّهَا وَ فَخْرَهَا اِلَی انْقِطَاعٍ، وَ اِنَّ زِیْنَتَهَا وَ نَعِیْمَهَا اِلٰی زَوَالٍ، وَ ضَرَّآئَهَا وَ بُؤْسَهَا اِلٰی نَفَادٍ، وَ کُلُّ مُدَّةٍ فِیْهَاۤ اِلَی انْتِهَآءٍ، وَ کُلُّ حَیٍّ فِیْهَا اِلٰی فَنَآءٍ.

دنیا کی عزت اور اس میں فخرو سر بلندی کی خواہش نہ کرو اور نہ اس کی آرائشوں اور نعمتوں پر خوش ہو اور نہ اس کی سختیوں اور تنگیوں پر بے صبری سے چیخنے چلانے لگو۔ اس لئے کہ اس کی عزت و فخر دونوں مٹ جانیوالے ہیں اور اس کی آرائشیں اور نعمتیں زائل ہو جانے والی ہیں اور اس کی سختیاں اور تنگیاں آخر ختم ہو جائیں گی۔ اس کی ہر مدت کا نتیجہ اختتام اور ہر زندہ کا انجام فنا ہونا ہے۔

اَوَ لَیْسَ لَکُمْ فِیْۤ اٰثَارِ الْاَوَّلِیْنَ مُزْدَجَرٌ، وَ فِیْۤ اٰبَآئِکُمُ الْمَاضِیْنَ تَبْصِرَةٌ وَّ مُعْتَبَرٌ، اِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ! اَوَ لَمْ تَرَوْا اِلَی الْمَاضِیْنَ مِنْکُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ، وَ اِلَی الْخَلَفِ الْبَاقِیْنَ لَا یَبْقَوْنَ! اَوَ لَسْتُمْ تَرَوْنَ اَهْلَ الدُّنْیَا یُصْبِحُوْنَ وَ یُمْسُوْنَ عَلٰۤی اَحْوَالٍ شَتّٰی: فَمَیِّتٌ یُّبْکٰی وَ اٰخَرُ یُعَزّٰی، وَ صَرِیْعٌ مُّبْتَلًی وَّ عَآئِدٌ یَّعُوْدُ، وَ اٰخَرُ بِنَفْسِهٖ یَجُوْدُ، وَ طَالِبٌ لِّلدُّنْیَا وَ الْمَوْتُ یَطْلُبُهٗ، وَ غَافِلٌ وَّ لَیْسَ بِمَغْفُوْلٍ عَنْهُ، وَ عَلٰۤی اَثَرِ الْمَاضِیْ مَا یَمْضِی الْبَاقِیْ!.

کیا پہلے لوگوں کے واقعات میں تمہارے لئے کافی تنبیہ کا سامان نہیں؟ اور تمہارے گزرے ہوئے آباؤ اجداد (کے حالات) میں تمہارے لئے عبرت اور بصیرت نہیں؟ اگر تم سوچو سمجھو۔ کیا تم گزرے ہوئے لوگوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ پلٹ کر نہیں آتے اور ان کے بعد باقی رہنے والے بھی زندہ نہیں رہتے؟ تم دنیا والوں پر نظر نہیں کرتے کہ جو مختلف حالتوں میں صبح و شام کرتے ہیں؟ کہیں کوئی میت ہے جس پر رویا جا رہا ہے اور کہیں کسی کو تعزیت دی جا رہی ہے، کوئی عاجز و زمین گیر مبتلائے مرض ہے اور کوئی عیادت کرنے والا عیادت کر رہا ہے، کہیں کوئی دم توڑ رہا ہے، کوئی دنیا تلاش کرتا پھرتا ہے اور موت اسے تلاش کر رہی ہے اور کوئی غفلت میں پڑا ہے لیکن (موت) اس سے غافل نہیں ہے۔ گزر جانے والوں کے نقشِ قدم پر ہی باقی رہ جانے والے چل رہے ہیں۔

اَلَا فَاذْکُرُوْا هَادِمَ اللَّذَّاتِ، وَ مُنَغِّصَ الشَّهَوَاتِ، وَ قَاطِعَ الْاُمْنِیَّاتِ، عِنْدَ الْمُسَاوَرَةِ لِلْاَعْمَالِ الْقَبِیْحَةِ، وَ اسْتَعِیْنُوْا اللهَ عَلٰۤی اَدَآءِ وَاجِبِ حَقِّهٖ، وَ مَا لَا یُحْصٰی مِنْ اَعْدَادِ نِعَمِهٖ وَ اِحْسَانِهٖ.

میں تمہیں متنبہ کرتا ہوں کہ بد اعمالیوں کے ارتکاب کے وقت ذرا موت کو بھی یاد کر لیا کرو کہ جو تمام لذتوں کو مٹا دینے والی اور تمام نفسانی مزوں کو کرکرا دینے والی ہے۔ اللہ کے واجب الادا حقوق ادا کرنے اور اس کی اَن گنت نعمتوں اور لاتعداد احسانوں کا شکر بجا لانے کیلئے اس سے مدد مانگتے رہو۔


balagha.org

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 05 February 23 ، 19:20
عون نقوی

وَاللهِ! لَا یَزَالُوْنَ حَتّٰی لَا یَدَعُوْا لِلّٰهِ مُحَرَّمًا اِلَّا اسْتَحَلُّوْهُ، وَ لَا عَقْدًا اِلَّا حَلُّوْهُ، وَ حَتّٰی لَا یَبْقٰی بَیْتُ مَدَرٍ وَّ لَا وَبَرٍ اِلَّا دَخَلَهٗ ظُلْمُهُمْ وَ نَبَا بِهٖ سُوْٓءُ رَعْیِهِمْ، وَ حَتّٰی یَقُوْمَ الْبَاکِیَانِ یَبْکِیَانِ: بَاکٍ یَّبْکِیْ لِدِیْنِهٖ، وَ بَاکٍ یَّبْکِیْ لِدُنْیَاهُ، وَ حَتّٰی تَکُوْنَ نُصْرَةُ اَحَدِکُمْ مِنْ اَحَدِهِمْ کَنُصْرَةِ الْعَبْدِ مِنْ سَیِّدِهٖ، اِذَا شَهِدَ اَطَاعَهٗ، وَ اِذَا غَابَ اغْتَابَهٗ، وَ حَتّٰی یَکُوْنَ اَعْظَمَکُمْ فِیْهَا عَنَآءً اَحْسَنُکُمْ بِاللهِ ظَنًّا، فَاِنْ اَتَاکُمُ اللهُ بِعَافِیَةٍ فَاقْبَلُوْا، وَ اِنِ ابْتُلِیْتُمْ فَاصْبِرُوْا، فَـ ﴿اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠۝﴾.

خدا کی قسم! وہ ہمیشہ یونہی (ظلم ڈھاتے) رہیں گے اور کوئی اللہ کی حرام کی ہوئی چیز ایسی نہ ہو گی جسے وہ حلال نہ سمجھ لیں گے اور ایک بھی عہد و پیمان ایسا نہ ہو گا جسے وہ توڑ نہ ڈالیں گے۔ یہاں تک کہ کوئی اینٹ پتھر کا گھر اور اُون کا خیمہ ان کے ظلم کی زد سے محفوظ نہ رہے گا اور ان کی بُری طرز نگہداشت سے لوگوں کا اپنے گھروں میں رہنا مشکل ہو جائے گا اور یہاں تک کہ دو قسم کے رونے والے کھڑے ہو جائیں گے: ایک دین کیلئے رونے والا اور ایک دنیا کیلئے اور یہاں تک کہ تم میں سے کسی ایک کا ان میں سے کسی ایک سے داد خواہی کرنا ایسا ہی ہو گا جیسے غلام کا اپنے آقا سے کہ وہ سامنے اطاعت کرتا ہے اور پیٹھ پیچھے برائی کرتا (اور دل کی بھڑاس نکالتا) ہے اور یہاں تک نوبت پہنچ جائے گی کہ تم میں سے جو اللہ کا زیادہ اعتقاد رکھے گا اتنا ہی وہ زحمت و مشقت میں بڑھا چڑھا ہو گا۔ اس صورت میں اگر اللہ تمہیں امن و عافیت میں رکھے تو (اس کا شکر کرتے ہوئے) اسے قبول کرو اور اگر ابتلا و آزمائش میں ڈالے جاؤ تو صبر کرو۔ اس لئے کہ اچھا انجام پرہیزگاروں کیلئے ہے۔


https://balagha.org/

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 05 February 23 ، 19:18
عون نقوی